The news is by your side.

Advertisement

لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کا 10 سال کا فرانزک آڈٹ کرنے کا حکم

لاہور: صوبہ پنجاب کی لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے گزشتہ 10 سال کا فرانزک آڈٹ کرانے کے احکامات جاری کردیے گئے، یونیورسٹی میں سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 10 سال کا فرانزک آڈٹ کروانے کے احکامات جاری کردیے، یونیورسٹی میں 25 قسم کی سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

احکامات کے تحت یونیورسٹی میں ایڈمیشن، امتحانات، بھرتیاں، خریداری، ٹھیکے اور ترقیاتی و غیر ترقیاتی منصوبوں میں گھپلوں کا آڈٹ ہوگا۔ کالا شاہ کاکو کیمپس کی زمین میں بھی گھپلے سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبات اور فیکلٹی کے ہاسٹلز اور عہدوں پر اضافی چارج دینے کا آڈٹ بھی ہوگا، سیلف سپورٹنگ پروگرامز میں گھپلوں، ایمرجنسی بلز اور ایفیلیشن کے معاملات اور بینک اکاؤنٹس کے بھی آڈٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں پینشن اور بلوں کی ادائیگی، ٹرانسپورٹ، جنریٹرز، یوٹیلیٹی بلز، یونیورسٹی کی کینٹینز، بینکوں کی لیز، رہائشی سہولیات، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف فنانشل ایڈ کا بھی دس سالہ فرانزک آڈٹ ہوگا۔

اس حوالے سے چیئرمین پبلک اکآنٹس کمیٹی نے ڈی جی آڈٹ پنجاب کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔

دوسری جانب لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے ترجمان نوید اقبال نے کہا کہ ’ابھی یونیورسٹی کو کوئی آفیشل لیٹر موصول نہیں ہوا، جیسے ہی کوئی نوٹس ملے گا ہم آڈٹ کروانے کے لیے تیار ہیں‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں