ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

پاکستان میں فروخت ہونے والے 40 فی صد آئل پینٹ میں سیسہ کی کثیر مقدار کا انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (25 مئی 2026): پاکستان میں آئل پینٹ میں استعمال ہونے والا سیسہ انسانی جان کے لیے شدید خطرے کا سبب بن رہا ہے، لیپ نامی بین الاقوامی تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں فروخت ہونے والے 40 فی صد آئل پینٹ میں لیڈ کی کثیر مقدار موجود ہے۔


وزارتِ صحت اور یونیسف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1 سے 3 سال کے 10 میں سے 4 بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی کے آثار پائے گئے ہیں۔


رپورٹ کے مطابق سیسہ کی سب سے زیادہ اوسط مقدار ہری پور کے علاقے حطار میں 88 بچوں میں ریکارڈ کی گئی، دوسرے نمبر پر بچوں میں سیسے کی سب سے زیادہ مقدار کراچی میں پائی گئی ہے۔


طلاق اور خلع کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے؟ اہم حقائق سامنے آگئے


تحقیق کے ممکنہ ذرائع میں صنعتی آلودگی، بیٹری ری سائیکلنگ، پینٹس، آلودہ مصالحہ جات، خوراک اور روایتی کاسمیٹکس کو شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 80 فی صد تک بچے سیسے کی آلودگی سے متاثر ہو سکتے ہیں، جب کہ اس کے باعث ملکی معیشت کو سالانہ 25 سے 35 ارب ڈالر تک نقصان ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سیسہ بچوں کی نشوونما، ذہنی صلاحیت اور مدافعتی نظام کو شدید متاثر کرتا ہے۔ اس سے ذہانت میں کمی، یادداشت کے مسائل اور رویے کی خرابیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اہم ترین

ندیم جعفر
ندیم جعفر
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل ہیں۔

مزید خبریں