The news is by your side.

Advertisement

دنیا کے 7 بڑے ممالک کے سربراہان کا برطانیہ میں احتجاجی مظاہرہ! معمہ کیا ہے؟

برطانیہ میں جاری جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر غربت، موسمیاتی تبدیلی اور کرونا وبا کے خاتمے کیلئے مظاہرے جاری ہیں، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سمندروں کو بچایا جائے اور معصوم شہریوں کے قتل عام کو بند کیا جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کا جی سیون سربراہی اجلاس برطانیہ کی میزبانی میں جاری ہے، اس موقع پر عوام اور بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیم آکسفیم کے کارکنان جی سیون ممالک کے سربراہوں کا روپ دھارے مظاہرہ کررہے ہیں۔

آکسفیم کے کارکنوں نے اپنے چہروں کو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، جاپانی وزیراعظم یوشی ہیڈے سوگا، اٹلی کے وزیراعظم ماریو ڈریگی اور امریکی صدر جو بائیڈن کے ماسک سے ڈھانپ رکھا ہے اور کرونا ویکسین کےلیے آپس میں انجیکشن کشی کررہے ہیں۔

کچھ خواتین ساحل پر پلے کارڈز لیے کھڑی ہیں اور سمندروں اور دوست مچھلیوں کی حفاظت کےلیے آواز اٹھا رہی ہیں جب کہ کچھ گیلینگوس کے ساحل پر کھڑے ہوکر پلاسٹک بیگز پر پابندی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ایسے میں کچھ افراد عالمی سربراہوں کا روپ دھارے ساحل سمندر پر بیٹھے مٹی کے گھر بنارہے ہیں جب کہ کچھ بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے ہیں اور ان کے اردگرد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہیں۔

ایک جگہ صدر بائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا مجسمہ کشتی میں سفر کررہا ہے تو ایک طرف سمندروں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم اوشن ریبیلین کے کارکن سمندر کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کے دوران ایک کشتی کو آگ لگا رہے ہیں۔

احتجاج میں شریک خاتون نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کھا ہے جس پر لکھا ہے ’جی سیون، اپنے اخلاقی فرض کو سمجھیں۔

جی سیون اجلاس کے دوران مظاہرین کی جانب سے ایتھوپیا کے ٹیگرے خطے میں تنازع کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ’معصوم شہریوں کے قتل عام‘ کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں