The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ چھوڑ دو، مانچسٹر کی جامع مسجد میں انتہا پسند کی کال

مانچسٹر: کرائسٹ چرچ حملے کے بعد اگر ایک طرف دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ہم دردی کا اظہار کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف چند انتہا پسند بھی متحرک ہو گئے ہیں۔

برطانوی شہر مانچسٹر کی جامع مسجد میں نا معلوم انتہا پسند نے کال کر کے دہشت پھیلا دی، انتہا پسند نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ برطانیہ چھوڑ دیں۔

جامع مسجد میں کال کرنے والے انتہا پسند نے کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ کے حملے کی بھی حمایت کی۔

برطانوی پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق کرائسٹ چرچ کے حملے کے بعد اب تک نسل پرستی اور اسلام دشمنی کے 11 واقعات درج ہوئے۔

پولیس نے 3 افراد کو گرفتار کیا، 2 کو نسلی نفرت کے مقدمات میں چارج کیا گیا، جب کہ سال 2018 میں مذہبی اور نسلی نفرت کے 5,199 واقعات رپورٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ میں مسلمانوں پر کرائسٹ چرچ کی طرح حملوں کا خطرہ ہے، برطانوی وزیر

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس رپورٹ ہونے والے 46 فی صد واقعات کے ملزمان کا سراغ لگانے میں نا کام رہی۔

خیال رہے کہ دو دن قبل برطانوی وزیر سیکورٹی نے برطانیہ میں بھی مسلمانوں پر کرائسٹ چرچ کے طرز پر حملوں کے خطرے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کے سلسلے میں نئے فنڈز مختص کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے، جس کے بعد گزشتہ روز برطانوی حکومت نے ملک میں عبادت گاہوں کی سیکورٹی کے لیے فنڈنگ بڑھانے کا اعلان کر دیا۔

مزید تفصیل پڑھیں:  برطانیہ: مسلمان غیر محفوظ، عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے فنڈنگ بڑھانے کا اعلان

واضح رہے کہ کرائسٹ چرچ واقعے کے بعد برطانیہ کی سرے اور سسکیس کاؤنٹی میں بھی پولیس کی جانب سے مساجد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں