The news is by your side.

Advertisement

لبنان میں شدید معاشی بحران، بینک کے باہر لوگوں کی ہنگامہ آرائی

بیروت: لبنان میں شدید معاشی بحران سے پریشان لوگ بینک کے باہر جمع ہوگئے اور اپنے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید ہنگامہ آرائی کی۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق معاشی تنگی سے پریشان لوگ بڑی تعداد بینک سے پیسہ نکالنے کے لیے جمع ہوئے جہاں انہوں نے ہنگامہ آرائی شرع کردی، لوگوں نے بینک کی عمارت پر انڈے اور پتھر برسائے۔

بینک کی دیواروں پر چور، آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت جیسے نعرے بھی لکھ دیے گئے۔ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے فوج کو بلایا گیا اور اس دوران متعدد افراد زخمی بھی ہوگئے۔

بینک کے باہر جمع افراد کا کہنا تھا کہ ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں، ہمارے پیسے اور پوری زندگی کی کمائی چلی گئی۔ سیاستدانوں اور بینکوں کے مالکان نے لوگوں کی کمائی کو لوٹا اور اپنے بچوں کے نام پر بیرون ملک بھیج دیا۔

ایک شخص کا کہنا تھا کہ لبنان میں بینکوں کے مالکان اور بینکوں کی جماعت جو سیاستدانوں، قانون سازوں، وزرا، مذہبی شخصیات اور موجودہ و سابق وزرائے اعظم پر مشتمل ہے، انہوں نے انسانیت کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی کی اور بینکوں میں جمع کرنے والوں کے پیسے لوٹ لیے۔

واضح رہے کہ پینڈورا پیپرز نے تصدیق کی ہے کہ لبنانی سیاستدانوں اور بینکاروں نے بیرون ملک میں غیر قانونی طور پر مہنگی جائیدادیں خریدی ہیں۔ ان میں سے بہت سے غیر ملکی اکاؤنٹس اسی حکمران طبقے کے ہیں جن پر ملک کو اس حالت زار پر لانے اور عام لبنانیوں کی زندگیوں کو تباہ کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

رواں برس ایک رپورٹ میں ورلڈ بینک نے کہا تھا کہ لبنان گزشتہ 150 سالوں میں دنیا کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور 70 فیصد عوام غربت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں