بیروت (07 جون 2026): لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں بریگیڈیئر جنرل سمیت 12 افراد شہید ہو گئے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران لبنان اور اسرائیل کے مابین مشروط جنگ بندی پر اتفاق کے چند ہی دن بعد جنوبی لبنان میں اسرائیل نے حملوں میں کم از کم 12 افراد شہید کر دیے، جن میں لبنانی فوج کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔
لبنان کی فوج کے مطابق الخردلی۔نبطیہ شاہراہ پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک فوجی جاں بحق ہوئے۔ جب کہ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والا یہ حملہ ایک ’’فعال جنگی علاقے‘‘ میں کیا گیا، اور یہ کہ ’’جنگی علاقے میں نقل و حرکت کے لیے اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔‘‘ اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے دانستہ اور بار بار کی جانے والی وحشیانہ جارحیت کا مقصد کسی حل تک پہنچنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے لبنانی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اسے ایک گھناؤنا جرم اور لبنان اور تمام لبنانی عوام پر حملہ قرار دیا۔
لبنانی آرمی چیف پاکستانی فیلڈ مارشل کی دعوت پر دورہ پاکستان کیلیے روانہ
اپنے بیان میں نواف سلام نے بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا، کیپٹن ایلی خوری اور فوجی حسین غزال کے اہل خانہ، ساتھیوں اور لبنانی فوج سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ بعد ازاں ہفتے کے روز لبنانی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے سربراہ جنرل رڈولف ہیکل اپنے پاکستانی ہم منصب فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اور مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی حملے پر سعودی عرب، اردن اور قطر کی جانب سے بھی مذمت اور اظہار تشویش کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کی امن فورس نے اس حملے کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا۔ الجزیرہ کے مطابق سیدون کے علاقے سکسکیہ میں بھی اسرائیلی حملے سے 6 لبنانی شہری شہید ہوئے، اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں مزید 150 اہداف کو نشانہ بنایا۔


