The news is by your side.

Advertisement

لبنانی پارلیمنٹ نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی

بیروت: لبنانی پارلیمنٹ نے 2 ہفتے کے لیے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنانی پارلیمنٹ نے بیروت میں ہونے والے دھماکے کے بعد ملک میں مظاہروں کے پیش نظر ملک بھر میں 2 ہفتوں کے لیے ایمرجنسی نافذ کرکے اختیارات فوج کو منتقل کردئیے۔

ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد فوج تقریر و تحریر، اجتماع اور سیکیورٹی سے متعلق شبہات کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کرنے کی مجاز ہوگی جبکہ عدالتی نظام کی جگہ فوجی عدالتیں لے لیں گی۔

رپورٹ کے مطابق حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے نافذ کی گئی ایمرجنسی 21 اگست تک برقرار رہے گی۔

مزید پڑھیں: لبنانی وزیراعظم نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

ہنگامی حالات نافذ کرنے کی منظوری بیوت دھماکے کے تناظر میں دی گئی ہے، اسپیکر لبنانی پارلیمنٹ نے 8 ارکان کے استعفے بھی منظور کرلیے، 119 اراکین میں سے صرف ایک نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔

واضح رہے کہ بیروت دھماکے میں ہلاک افراد کی تعداد 200 ہوگئی، دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

یاد رہے کہ بیروت میں ہونے والے تباہ کُن دھماکے بعد لبنان میں عوامی احتجاج اور سیاسی بے چینی عروج پرپہنچ چکی ہے اور 10 اگست کو وزیر اعظم حسن دیب اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں