The news is by your side.

Advertisement

لیجنڈ اداکار محمد علی کو اپنے مداحوں سے بچھڑے تیرہ برس بیت گئے

لاہور: مفرد انداز اور مخصوص لب ولہجے کے مالک اداکار محمد علی کی 13ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

محمد علی نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے کیا، محمدعلی کو فلمساز فضل احمد کریم فضلی نے اپنی فلم چراغ جلتا رہا میں بطور ہیرو کاسٹ کیا، اس زمانہ میں لالہ سدھیر، سنتوش کمار، درپن اور رحمٰن کے ستارے عروج پر تھے۔

فلم بینوں کی اکثریت نے محمدعلی کو پہلی ہی فلم میں بطور ہیرومقبولیت کی سند بخشی، محمدعلی کے ساتھ زیبا بطورہیروئن آئیں تو یہ جوڑی نہ صرف فلمی برانڈبن گئی بلکہ فلم کی کامیابی کی ضمانت بھی بنی۔

اداکارمحمد علی 10 نومبر 1938ء کو ہندوستان کے شہر رامپور کے مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ محمد علی نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان حیدر آباد سے کیا اور 1962ء میں ان کی پہلی فلم ‘چراغ جلتارہا’ ریلیز کی گئی جبکہ محمد علی کی اور مقبول فلم ‘شرارت’ 1964ء میں ریلیز ہوئی۔

انہوں نے چار دہائیوں تک سلوراسکرین پر حکمرانی کرکے کروڑوں فلم بینوں کے دلوں پر راج کیا، محمد علی نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں پنجابی فلمیں بھی شامل ہیں۔ منفرد انداز، آواز کے اتار چڑھاؤ پر مکمل دسترس اور حقیقت سے قریب تر اداکاری نے محمد علی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

محمد علی کی مشہور فلموں میں جاگ اٹھا انسان‘خاموش رہو‘ ٹیپو سلطان‘ جیسے جانتے نہیں‘آ گ‘ گھرانہ‘ میرا گھر میری جنت‘ بہاریں پھر بھی آئیں گی‘ محبت‘ تم ملے پیار ملا اور دیگر بہت سی فلمیں شامل ہیں۔

محمد علی نے جس اداکارہ کے ساتھ بھی کام کیا ان کی جوڑی خوب سجی، محمد علی کا شمار ورسٹائل اداکاروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے کئی کریکٹر رول اور منفی رول بھی بڑی کامیابی سے پرفارم کئے۔

انیس مارچ سنہ دوہزارچھ کو محمدعلی لاہور میں وفات پاگئے، محمدعلی نے پاکستان کی فلم انڈسٹری پر اپنی اداکاری کے گہرے نقوش چھوڑے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں