The news is by your side.

Advertisement

نیند کے مسائل یا کم خوابی سے چھٹکارا کیسے ممکن ؟

ہمارے معاشرے میں عام طور پر کم خوابی کوئی بڑا مسئلہ نہیں کیوں کہ فکرِمعاش کے باعث ہونے والی جسمانی و ذہنی مشقت انسان کو اتنا تھکا دیتی ہے کہ بستر پر لیٹتے ہی نیند آجاتی ہے۔

تاہم معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور پریشانیاں بعض افراد کی نیندیں اڑا دیتی ہیں، نیند کی کمی یا خرابی صرف ایک بیماری نہیں بلکہ یہ امراض کا مجموعہ بھی ہے اسے آسان نہیں لینا چاہیے۔

نیند کے مسائل یا بے خوابی ایک عام بیماری ہے جس کا زیادہ تر شکار خواتین ہوتی ہیں، بےخوابی سے اگلے دن کے معمولات متاثر ہوتے اور کام کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ تھکاوٹ اور توانائی کا زیاں ہوتا ہے، روزمرہ کے کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سیدتی میگزین کی ایک رپورٹ میں اس مسئلے قابو پانے کے حوالے سے بات کی گئی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ ہر انسان کی نیند کا دورانیہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، عام طور پر ایک شخص کی صحت کے لیے روزانہ7-8 گھنٹے نیند کرنا کافی ہے۔

بہت سے افراد میں اچانک، شدید یا قلیل المدتی بےخوابی ہوتی ہے جو کئی دن یا ہفتوں تک رہتی ہے۔ ایسا عام طور پر تناؤ یا تکلیف دہ واقعات کے نتیجے میں ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کو دائمی یا طویل المیعاد بے خوابی بھی ہوتی ہے جو ایک مہینہ یا اس سے زیادہ وقت تک رہتی ہے۔ بے خوابی کا تعلق ادویات یا دیگر طبی حالتوں سے بھی ہوسکتا ہے۔

بے خوابی کی بنیادی وجوہات کا علاج کرنے سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے لیکن بعض اوقات یہ مسئلہ برسوں تک رہ سکتا ہے۔

دائمی بےخوابی کی عام وجوہات

بے خوابی کی عام وجوہات میں متعدد ایسے پہلو شامل ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگیوں کا حصہ ہوتے ہیں، اور چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی ہم ان سے مکمل پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔

تناؤ: کام، اسکول، صحت، معاش یا اہل خانہ کے بارے میں فکرمند رہنا آپ کے دماغ کو رات کے وقت مصروف رکھتا ہے اور یوں نیند آنا مشکل ہو جاتی ہے۔ تکلیف دہ زندگی کے واقعات، جیسے کسی پیارے کی موت یا بیماری، طلاق یا بے روزگاری بھی بے خوابی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہمارا خودکار جسمانی سسٹم اندرونی گھڑی کا کام کرتا ہے، جو آپ کی نیند بیدار ہونے اور جسمانی درجہ حرارت جیسی چیزوں کی راہنمائی کرتا ہے، خودکار جسمانی سسٹم میں خلل پڑنے سے بے خوابی کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔

نیند کی خراب عادات میں نیند کا غیر منظم شیڈول، سونے سے پہلے کی سرگرمیاں، نیند کے لیے غیر آرام دہ ماحول، اور بستر کو کام کرنے، کھانے اور ٹی وی دیکھنے کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔

بستر پر جانے سے پہلے کمپیوٹر ، ٹیلی ویژن، ویڈیو گیمز، اسمارٹ فونز یا دیگر سکرینز کا استعمال آپ کی نیند کے دورانیے میں مداخلت کرسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں