The news is by your side.

Advertisement

کلین کراچی مہم کا افتتاح، سوچ بدلے بغیرکراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے

کراچی: وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے ’کراچی صاف کریں‘ مہم کا افتتاح کردیا، ان کا کہنا ہے کہ کلین کراچی اتنی بڑی مہم بن گئی ہےکہ اب لوگ بیرون ملک سےبھی شریک ہورہےہیں۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصا ف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ علی زیدی نے آج کراچی پورٹ ٹرسٹ بلڈنگ میں منعقدہ تقریب میں کلین کراچی مہم کا افتتاح کیا ، یہ مہم وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر شروع کی گئی ہے جس کا مقصد دو ہفتوں میں کراچی کے تمام نالوں کی صفائی اور شہر بھر کا کچرا اٹھانا ہے۔

علی زیدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او کی جانب سے اس مہم میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے تعینات کرنے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیت صاف ہو تو ساری دنیا پیچھے چلنے لگتی ہے ، اگر میئر کراچی وسیم اختر اس مہم میں ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو ہمارے لیے یہ مہم بہت بڑی مشکل بن جاتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے والے پیسوں سے صوبائی حکومت نے دبئی میں جائیدادیں بنائی ہیں۔ شہر صاف ہوسکتا ہے ، ہم ایک مرتبہ کرکے دکھانا چاہتے ہیں، دبئی پیسہ کم بھیجیں اور کچھ پیسے اس شہر کی فلاح و بہبود پر بھی لگا دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کلین کراچی اتنی بڑی مہم بن گئی ہےکہ اب لوگ بیرون ملک سےبھی شریک ہورہےہیں،تمام لوگوں اورخاص طورپرمیڈیاکاشکرگزارہوں۔ علی زیدی نے خواہش کا اظہار کیا کہ کم از کم آج 15 ہزار رضا کار اس مہم میں شمولیت اختیار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس شہر کی کبھی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی، 50سے60فیصدشہری کچی آبادیوں میں رہتےہیں۔ کسی نےکوئی ٹاؤن پلاننگ نہیں کی،جوآیاگھربناتاچلاگیاکوئی نقشہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریلوے سمیت دیگر کئی اداروں کی زمینوں پر قبضہ ہوگیا اور بے ترتیب علاقے آباد ہوتے چلے گئے ہیں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم بن رہی ہے، جس میں تمام بے گھروں کو پکے گھر ملیں گے۔

علی زیدی نے مزید کہا کہ بغیرمنصوبےکے اور سوچ بدلے بغیر کراچی کےمسائل ختم نہیں ہوں گے۔عوام کچرا خود باہرپھینکتےہیں پھر اس کے بعد میئر کراچی وسیم اخترپرغصہ کرتےہیں۔

میئر کراچی نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ کراچی جیسا بھی چل رہا ہے کے ایم سی چلا رہی ہے ، کراچی کے اربوں روپے ہڑپ کرلیے گئے اور وہ لوگ حساب مانگ رہے ہیں جن سے سارا پاکستان حساب مانگ رہا ہے۔

یاد رہے کہ کلین کراچی مہم کا آغاز وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کیا تھا ، اس مہم کے لیے ضلع غربی میں 48 مقامات اور ضلع جنوبی و شرقی میں 70 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مہم کے پہلے مرحلے میں 6 اضلاع میں بڑے نالوں کی صفائی کی جائے گی۔

کراچی کے38نالے سمندر میں گرتے ہیں،38میں سے13نالے بڑے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر بند ہیں۔ دوسرے مرحلے میں شاہراہوں اور گلیوں سے کچرا اٹھایا جائے گا۔

کچرا اٹھانے کے فیز میں ڈمپنگ یارڈ زخالی کرنا اور اسکولز و پارکس کے اطراف سے کچرا اٹھانا شامل ہے۔ مہم میں حصہ لینے والے وفاقی و بلدیاتی اداروں کے نمائندگان مسلسل رابطے میں رہیں گے۔

 مہم میں 10 ہزار سے زائد رضا کار، سیاسی کارکن اور عوامی نمائندے حصہ لیں گے۔ وفاقی حکومت کی کلین کراچی مہم کے لیے قومی خزانے سے فنڈز نہیں لیے جائیں گے۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کلین کراچی مہم کی کلیدی شراکت دار ہے جو تکنیکی مدد و ہیوی مشینری دے گی۔ کراچی کی کاروباری و صنعتی تنظیمیں بھی کلین کراچی مہم میں حصہ لیں گی۔ مہم میں ایک ہزار ٹریکٹر ٹرالیوں 200 سے زائد ڈمپر لوڈر سے کچرا ٹھکانے لگایا جائے گا۔ ہر بلدیاتی وارڈ میں رضا کار صفائی مہم کا حصہ بنیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں