The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو جیل میں معائنے کی اجازت مل گئی

لاہور : لاہور ہائی کورٹ ڈاکٹر عدنان کوجیل ڈاکٹرز کی سربراہی میں نوازشریف کےمعائنےکی اجازت دیتے ہوئے ڈاکٹرعدنان کوجیل سےباہرآکر بیان بازی سے روک دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جیل میں نوازشریف سے ہفتے میں دو بار ملاقات کیلئےمریم نواز کی درخواست پر سماعت ہوئی ، قائم مقام چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو جیل ڈاکٹرز کے بورڈ کی سربراہی میں نوازشریف کے معائنے کی اجازت دے دی اور جیل سے باہر آکر بیان بازی سے روک دیا۔

عدالت نے کہا ڈاکٍٹر عدنان نوازشریف کے اہل خانہ کے ساتھ ہفتے میں ایک بار معائنہ کرسکتے ہیں اور اگر ڈاکٹر عدنان جیل ڈاکٹر کی سربراہی میں جا کر معائنہ کرنا چاہئیں تو کرسکتے ہیں۔

عدالت نے حکم دیا ڈاکٹر عدنان نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بھی بیان بازی نہیں کریں گے۔

سرکاری وکیل نے کہا ڈاکٹروں کا پورا بورڈ نوازشریف کی صحت کے معاملات کو دیکھتا ہے، ہر آٹھ گھنٹے بعد کارڈیالوجسٹ میاں نوازشریف کامعائنہ کرتا ہے۔

جس پر وکیل مریم نواز کا کہنا تھا ڈاکٹر عدنان پچیس سال سے نوازشریف کے ذاتی معالج ہیں، ڈاکٹر عدنان کو ان سے ملنے نہیں دیاجا رہا تو سرکاری وکیل نے کہا اہل خانہ مسلسل ملاقاتیں کررہے ہیں ان ہر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، ڈاکٹر عدنان نوازشریف سے ملنے کے بعد سیاسی بیان بازی کرتے ہیں۔

وکیل مریم نواز نے مزید کہا نوازشریف کی جان کوخطرات ہوسکتے ہیں، جس پر عدالت کا کہنا تھا یہاں سیاسی گفتگو نہ کریں عدالت کوسخت اعتراض ہے۔عدالت

سرکاری وکیل نے بتایا اے کلاس تمام قیدیوں کے لئے ختم کردی گئی ہے، اگر ذاتی معالج کو ملنے دیا گیا تو باقی قیدیوں کا بھی مطالبہ آئے گا۔

یاد رہے عدالت نے مریم نوازکو درخواست میں ترمیم کرنے اور ڈاکٹر عدنان کو فریق بنانے کی اجازت دی تھی اور دلائل کے بعد عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہوم سیکرٹری پنجاب سے جواب طلب کر لیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل مینول اور قانون قیدیوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ اور کسی سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔ کسی قیدی سے ملاقاتوں پر پابندی یا قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

وکیل نے کہا حکومت پنجاب کی جانب سے نواز شریف سے ہفتے میں صرف ایک روز ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔ نوازشریف دل سمیت متعدد عارضوں میں مبتلا ہیں۔ نوازشریف کے ذاتی معالج کی ملاقات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ استدعا ہے کہ نواز شریف سے ہفتے میں دو روز ملاقات کیلئے مختص کرنے کا حکم دیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں