site
stats
ماحولیات

عدالت نے پنجاب حکومت سے اسموگ پالیسی طلب کرلی

Smog Policy

لاہور : عدالت نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے سموگ پالیسی طلب کر لی ‘ عدالت نے قرار دیا کہ موسمیاتی تبدیلیاں سب سے بڑا خطرہ ہیں جس سے نمٹنے کے لئے عملی اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار شیراز ذکاءنے عدالت کو آگاہ کیا کہ گذشتہ برس نومبر میں سموگ کے نتیجے میں شہری مختلف امراض میں مبتلا ہوگئے مگر حکومت نے شہریوں کی رہنمائی کے لئے اور سموگ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے۔

دنیا کے اسموگ سے متاثرہ 10 شہر*

عدالتی حکم پر محکمہ ماحولیات کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گذشتہ برس بھارت میں فصل خریف کی کٹائی کے بعد پھوک کو آگ لگا دی گئی جس سے سموگ پیدا ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ موسم کی تبدیلی کے نتیجے میں زمین ٹھنڈی ہونے ‘ ہوا میں نمی کی کمی سے ذرات کی تعداد میں اضافے سے سموگ پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سموگ سے نمٹنے کے لئے پالیسی منظوری کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اچانک بارشوں اور سیلابی کیفیت میں اضافہ سے انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا معاملہ نہایت سنجیدہ ہے جس کے تدارک کے لئے محکمہ ماحولیات کو عملی اقدامات کرنے کے ساتھ شہریوں کو آگہی دینا ہو گی ۔

عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو منظوری کے لئے بھجوائی گئی سموگ پالیسی کی سمری عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کر دی۔

دھند کے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں*

یاد رہے کہ گزشتہ سال موسمِ سرما میں لاہور پر پر اسرار زہریلی دھند چھا گئی تھی جس سے شہری خصوصاً بچے اور خواتین سانس کی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوگئے تھے ۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائم نے ناسا کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس دھند کی بنیادی وجہ بھارتی پنجاب کے ہزاروں کسانوں کی جانب سے 32 ملین ٹن زرعی فضلہ، گھاس اور بھوسہ نذر آتش کرنا ہے ، جس کی وجہ سے بھارتی پنجاب اور اس سے ملحقہ پاکستانی علاقے گزشتہ دو روز سے شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں آگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top