site
stats
پنجاب

لاہور سےبچوں کا اغوا‘ تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ کی سیکیورٹی سے تعلق رپورٹ طلب

لاہور: ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں کی ناقص سیکیورٹی اور بچوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف درخواست پر تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ کی سیکیورٹی کے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی ۔ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب کے 6180 اے گریڈ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی انتظامات تسلی بخش ہیں ‘ ان اداروں میں میٹل ڈیٹیکٹر ‘ واک تھرو گیٹ اور سیکیورٹی گارڈز موجود ہیں۔

مزید ازاں پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے چیرمین فیصل مسعود نے بیان دیا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے اعضا ٹرانسپلانٹ نہیں ہو سکتے تاہم حکومت نے اعضا کی پیوند کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور پیوند کاری کے لیے حکومت سے باقاعدہ اجازت لینا پڑتی ہے اس کے لیے ملک بھر میں 11 ہسپتال موجود ہیں اس حوالے سے ویجیلنس کمیٹیاں ہر ضلع میں مانیٹرنگ کر رہی ہیں جن میں اعلی ٰپولیس افسران اور ایجنسیوں کے لوگ شامل ہیں ۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ کی سیکیورٹی کا مناسب انتظام موجود نہیں جس کی وجہ سے اغوا کی وارداتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ اربوں کا بجٹ ہونے کے باوجود پولیس وارداتیں روکنے میں ناکام نظر آتی ہے ۔ اغوا کی وارداتوں کی وجہ سے والدین خوف و ہراس کا شکار ہیں اور بچوں کو سکول بھجوانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اس لیے جب تک بچوں کی سیکیورٹی کا فول پروف انتظام نہ سکولوں کی تعطیلات بڑھانے کا حکم دیا جائے ۔

عدالت نے تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ کی سیکیورٹی کے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top