The news is by your side.

Advertisement

پنجاب حکومت کا عطائیوں کے کلینک سربمہر کرنے کا اختیار قانونی قرار

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کا عطائیوں کے کلینک سربمہر کرنے کا اختیار قانونی قرار دے دیا جبکہ عطائیوں کے اسکلز ڈویلپمنٹ کونسلز سے حاصل تربیتی ڈپلومے بھی غیر قانونی قرار دیئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں کلینک سربمہر کرنے کے خلاف عطائیوں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے اتائیوں کے خلاف فیصلہ سنادیا، جسٹس عائشہ اے ملک نے29صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں لاہورہائی کورٹ نے کلینک سربمہر کرنے کیخلاف اتائیوں کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے پنجاب حکومت کا عطائیوں کے کلینک سربمہر کرنے کا اختیار قانونی قرار دے دیا۔

عدالتی فیصلہ عطائیوں کے اسکلز ڈویلپمنٹ کونسلز سے حاصل تربیتی ڈپلومے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ڈپلوموں کی ہیلتھ کیئرکمیشن ایکٹ کے تحت کوئی حیثیت نہیں۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پنجاب ہیلتھ کیئرکمیشن ایکٹ صحت عامہ کے تحفظ کیلئے بنایا گیا، صحت عامہ کیلئے عطائیوں کو اڈے چلانےکی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ کیئرکمیشن ایکٹ کا مقصدصحت سے متعلق ہر شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہے ، عدالت پہلے ہی صحت عامہ کیلئے احتیاطی تدابیر کا اصول طے کرچکی ہے، صحت سے متعلق کسی شعبے کو قانون سے ہٹ کر کام کی اجازت نہیں دے سکتے۔

تحریری فیصلہ کے مطابق ہیلتھ کیئر کمیشن عطائیوں کے کلینک سربمہر کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔

یاد رہے اپریل میں اسپتالوں اور صحت کی سہولیات کی ازخود نوٹس کیس سماعت میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےپنجاب بھر میں ایک ہفتے میں تمام عطائی ڈاکٹروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے حکم جاری کیا کہ پنجاب پولیس اور متعلقہ حکام عطائی ڈاکٹروں خلاف سخت ایکشن لیں اور ایک ہفتے میں ان کے خلاف کارروائی مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں