The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دونوں جے آئی ٹیز کی رپورٹس پیش کرنے کا حکم

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کردی اور دونوں جے آئی ٹیز کی رپورٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کہا آخری موقع دے رہے ہیں، ریکارڈ پیش نہ کیا تو ذمے دار افسران کو طلب کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جےآئی ٹی کےخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے نئی جے آئی ٹی بنانے کے حوالے سے کابینہ کی منظوری کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھجوائی گئی سفارشات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

عدالت نے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ عدلیہ کمزور نہیں ہے، دستاویزات پیش نہ کرنے پر چیف سیکرٹری سمیت دیگر افسروں کو طلب کیا جائے گا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو ریکارڈ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کی وجہ سے ریکارڈ دستیاب نہیں ہوسکا، عدالت متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کیلئے مہلت دے۔

عدالت آئندہ سماعت پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دونوں جے آئی ٹیزکی رپورٹ پیش کرنے اور جے آئی ٹی بنانے کے حوالے سے کابینہ کی منظوری کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا آخری موقع دے رہے ہیں ریکارڈ پیش نہ کیا تو ذمے دار افسران کو طلب کریں گے۔

عدالت نے سرکاری وکیل کی استدعا پر درخواستوں کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں : سانحہ ماڈل ٹاؤن، عدالت نے نئی جے آئی ٹی کو تحقیقات سے روک دیا

یاد رہے رواں سال مارچ میں لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کی نئی جے آئی ٹی کو تحقیقات سے روکتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کا نوٹی فکیشن معطل کردیا تھا  اور پنجاب حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔

خیال رہےجی آئی ٹی کی تفتیش پر پرعدم اطمینان کے بعد 19 نومبر 2018 کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم جاری کیا تھا۔حکومت کی جانب سے 5 دسمبر تک نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی یقین دہانی کے بعد سپریم کورٹ نے درخواست نمٹا دی تھی۔

قبل ازیں سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں نامزد ملزم نوازشریف، شہبازشریف ، حمزہ شہباز، راناثناءاللہ، دانیال عزیز، پرویز رشید اور خواجہ آصف سمیت دیگر 139 ملزمان کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ بعد ازاں 3 جنوری 2019 کو محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جس کی سربراہی  آئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ کو دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع منہاج القرآن کے مرکزی دفتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا تھا، جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جب کہ 90 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں