The news is by your side.

Advertisement

خواجہ سرا کی ولدیت کا مسئلہ ، عدالت نے گرو کے نام کی منظوری دے دی

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے خواجہ سرا کی ولدیت میں گرو کا نام لکھنے کی اجازت دیتے ہوئے نادرا حکام کو  شناختی کارڈ درخواستیں منظور کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

تفصیلات کے مطابق خواجہ سرا میاں آسیہ نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی کہ نادرا حکام کی جانب سے انہیں شناختی کارڈ جاری نہیں کیے جارہے، جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی شناختی کارڈ کی معیاد ختم ہونے پر نادرا کی جانب سے نیا کارڈ جاری نہیں کیا جارہا۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ نادرا حکام ولدیت کی جگہ گرو کا نام لکھنے پر اعتراض کرتے اور اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواست کو مسترد کردیتے ہیں۔

پڑھیں: خواجہ سراؤں نے بھی مردم شماری کے نتائج مسترد کردیے، احتجاج کا اعلان

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل بھی مجھے نادرا کی جانب سے اسی نام پر شناختی کارڈ جاری کیا گیا تھا تاہم وہ اب زائد المعیاد ہوچکا اور پالیسی تبدیل ہونے کی وجہ سے نیا شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے بہت مسائل کا سامنا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ کے معاملے پر ایسی کوئی پالیسی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔

نادرا کے وکیل نے عدالت  کو حکم کی تعمیل کا یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا کے شناختی کارڈ میں والد کی جگہ گرو کا نام درج کیا جائے گا اور اب وہ اپنے درخواست میں اپنے متعلقہ گرو کا نام لکھ سکیں گے جس کے بعد انہیں شناختی کارڈ جاری کیے جائیں گے۔

عدالت نے نادرا کو پابند کرتے ہوئے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں