The news is by your side.

Advertisement

علی جہانگیرصدیقی کی امریکا میں سفیر تعیناتی ،وفاقی حکومت سے جواب طلب

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے علی جہانگیر صدیقی کو امریکہ میں پاکستانی سفیر تعینات کرنے کے خلاف درخواست پروفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے علی جہانگیر صدیقی کو امریکا میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیار کیا کہ علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی طریقہ کار اور میرٹ کے برعکس کی گئی، علی جہانگیر صدیقی کی تعلیمی قابلیت بی اے ہے اور سفارتکاری کا تجربہ نہ ہونے کے سبب ملکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ امریکہ جیسے ملک میں سینئر اور تجربہ کار سفارتکار کی تعیناتی سے قبل پارلیمنٹ اور کابینہ کی منظوری میں ہی ملکی مفاد وابستہ ہے، میرٹ کے برعکس علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

عدالت نے وفاقی حکومت، وفاقی سیکرٹری کابینہ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سے جواب طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ 22 مارچ کو امریکا میں نامزد پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی نیب کی تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو  پیش  ہوئے اور سوالات کے جوابات دیئے۔

نیب کی تفتیشی ٹیم نے علی جہانگیر صدیقی کو ایک سوال نامہ دیا، جس میں ان کی کمپنیوں اور شئیرز کی خریدوفروخت کے حوالے سے 45 سوالات درج ہیں اور کہا گیا کہ  دو ہفتے کے اندر  ان کے جوابات فراہم کریں۔

نیب ذرائع کے مطابق علی جہانگیر صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت میں بے ضابطگی کی، ایزگارڈ نائن میں منی لانڈرنگ اور انسائڈر ٹریڈنگ کا الزام ہے جبکہ ایگری ٹیک شیئرز میں بھی انسائڈرٹریڈنگ کی انکوائری ہو رہی ہے۔

واضح رہے چندروز قبل حکومت پاکستان نے پاکستان میں امریکہ کے سفیر اعزاز چوہدری کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد علی جہانگیرصدیقی کوسفیر نامزد کیا تھا۔

سابق سفیروں نے علی جہانگیر صدیقی کی بطور سفیرِ امریکہ نامزدگی کی مخالفت کی تھی  جبکہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی کڑی تنقید کی گئی۔

خیال رہے کہ علی جہانگیر صدیقی ملک کے معروف کاروباری گروپ جے ایس گروپ کے مالک جہانگیر صدیقی کے صاحبزادے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں