کیبن کریوکےاوقات کارمیں تبدیلی، پی آئی اے حکام اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نوٹس جاری
The news is by your side.

Advertisement

کیبن کریوکےاوقات کارمیں تبدیلی، پی آئی اے حکام اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نوٹس جاری

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے قومی ایئرلائن کے کیبن کریو کے اوقات کار میں تبدیلی کے خلاف درخواست پر پی آئی اے حکام اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں قومی ایئرلائن کے کیبن کریو کے اوقات کارمیں تبدیلی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، درخواست پاکستان ایئرلائن کیبن کریوایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی ہے۔

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کیبن کریو کے اوقات کار 12 سے 16 گھنٹے بڑھانا خلاف قانون ہے، کیبن کریو کے اوقات کار میں اضافہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا اوقات کار میں 4 گھنٹوں کے اضافے سے ملازمین کی نجی زندگی متاثر ہو گی، مسافروں اور کیبن کریو کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔

دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت نئے اوقات کار سے متعلق پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے اور مقدمے کے حتمی فیصلے تک نوٹیفیکیشن سے متعلق حکم امتناعی جاری کرے۔

جس پر عدالت نے پی آئی اے حکام اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں : پی آئی اے : کیبن کریو کے ڈیوٹی اوقات کارسولہ گھنٹے کر دیئے گئے

یاد رہے چند روز قبل پی آئی اے انتظامیہ نے کیبن کریو کے ڈیوٹی اوقات کار میں اضافہ کردیا تھا اور ڈیوٹی کے اوقات کار بارہ گھنٹے سے بڑھا کر16گھنٹے کر دئیے گئے تھے، نظر ثانی شدہ اوقات کار میں کیبن کریو کے لئے اسپیشل الاؤنسز اور مالی فوائد دئیے جانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے صدر کیبن کریو ایسوسی ایشن نصراللہ آفریدی کا کہنا تھا فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن میں اضافہ ایوی ایشن قوانین کی خلاف ورزی ہوگی، ایوی ایشن قوانین اور اور طبی ماہرین کے مطابق 12 گھنٹے سے زائد کام نہیں کرسکتے۔

جبکہ ترجمان پی آئی اے نے کہا تھا کہ16گھنٹے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لیمیٹیشن سی اے اے قوانین کے مطابق ہے، نئے روسٹر سے اخراجات میں بچت اور کارکردگی بہتر ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں