The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کے بیانات کی میڈیا نشریات پر پابندی کی درخواست سماعت کے لیے فل بنچ کو بھجوا دی

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی تقاریر اور بیانات کی میڈیا نشریات پر پابندی کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے فل بنچ کو بھجوا دی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے نواز شریف کی تقاریر اور بیانات کی میڈیا نشریات پر پابندی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے پانامہ کیس فیصلے کے بعد نواز شریف مسلسل عدلیہ مخالف تقاریر کر رہے ہیں، نواز شریف کی عدلیہ مخالف تقاریر بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان تقاریر سے ملکی سالمیت کو خطرہ ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے انہی وجوہات کی بنا پر قائد ایم کیو ایم کی تقاریر پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، عدالت نواز شریف کی تقاریر کی نشریات اور اشاعت پر پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اسی نوعیت کی درخواستوں کی سماعت کے لیے فل بنچ تشکیل دیا گیا ہے، اسے بھی سماعت کے لیے فل بنچ بھجوا دیتے ہیں۔

عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے فل بنچ بھجوا دی۔


مزید پڑھیں : نواز شریف کے بیانات کی میڈیا پرنشریات پر پابندی کے لیے درخواست دائر


یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیانات کی میڈیا پرنشریات پر پابندی کے لیے جاوید اقبال جعفری نے درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کی تقاریر سے ملکی سالمیت کو خطرہ ہے لہذا نواز شریف کی تقاریر کی نشریات اور اشاعت پر پابندی عائد کرے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف ، مریم نواز اور ن لیگی رہنماوں کے خلاف اسی نوعیت کی تمام درخواستیں یکجا کرکے سماعت کے لیے فل بنچ تشکیل دے رکھا ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ دو اپریل سے درخواستوں کی سماعت شروع کرے گا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کیخلاف توہین عدالت کے کیسز زیر سماعت ہیں ، رہنماؤں میں وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے سعد رفیق ، وزیر مملکت طلال چوہدری اور وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز شامل ہیں۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی توہین عدالت کیس میں 1 ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا کاٹ چکے ہیں جبکہ ایک بار پھر نہال ہاشمی کیخلاف توہین عدالت کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں