The news is by your side.

Advertisement

شریف خاندان شوگر ملز کیس ، وزیراعظم کے بھتیجے یوسف عباس شریف سمیت تین قریبی رشتہ دار طلب

لاہور: لاہور  ہائی کورٹ نے شریف خاندان شوگر ملیں منتقلی کیس میں وزیراعظم کے بھتیجے یوسف عباس شریف سمیت تین قریبی رشتہ داروں کو طلب کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی . جہانگیر ترین کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ پابندی کے باوجود ایک خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے پابندی ختم کی گئی، ان ملوں کی منتقلی کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں پانی اور کپاس کی فصل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ جو ملیں پہلے سے منتقل کی گئیں ان سے کپاس اور پانی کو کتنا نقصان پہنچا اس کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیشن قائم کیا جائے گا، جو وہاں جا کر تمام صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کا تحفظ بھی عدالت کی ذمہ داری ہے شوگر ملیں مفاد عامہ سے بڑھ کر نہیں۔


مزید پڑھیں : شریف خاندان کی شوگر ملز کا خام مال استعمال میں لانے کی اجازت کی استدعا مسترد


عدالتی حکم امتناعی کے باوجود کرشنگ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پر ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے بھتیجے یوسف عباس شریف . جاوید شفیع اور حسیب ریاض کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 مئی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

گذشتہ سماعت میں لاہور ہائیکورٹ نے شریف خاندان کی چودھری شوگر ملز کا خام مال استعمال میں لانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کے آغاز میں لاہور ہائیکورٹ نے شریف فیملی کی حسیب وقاص اور چوہدری شوگر ملز کو سیل کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ نے شریف خاندان کی تینوں شوگر ملزکو کرشنگ سے روک دیا تھا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے وکیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کرشنگ ہوئی تو ذمے داری آپ پر عائد ہوگی۔


مزید پڑھیں : ہائیکورٹ کا شریف خاندان کی 2 شوگر ملز کو سیل کرنے کا حکم


واضح رہے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے قوائد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی شوگر ملوں کے قیام پر پابندی کے باوجود تین نئی شوگر ملز قائم کی تھیں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں