The news is by your side.

Advertisement

متحدہ اپوزیشن کومال روڈ پراحتجاج کی اجازت مل گئی، رات 12 بجےتک احتجاج ختم کرنےکاحکم

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کی زیر قیادت اپوزیشن کو رات 12 بجے تک دھرنے کی اجازت دے دی، عدالت نے حکم دیا کہ رات 12بجے کے بعد انتظامیہ ٹریفک نظام بحال کرائے گی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس محمد امین الدین ، جسٹس شاہد جمیل اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل فل بنچ نے پی اےٹی کادھرنا رکوانےکی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت نے سیکریٹری داخلہ کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری داخلہ کوخودآکرصورتحال واضح کرنی چاہیے تھی۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ مال روڈ پر سکیورٹی خدشات ہیں اس حوالے سےدھرنے کے منتظمین کو آگاہ کیا گیا ہے اور انھیں دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتی حکم کے تحت مال روڈ پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔

جس پر عدالت نے کہا کہ دھرنوں کے حوالے سے کوئی قانون پاس کیا گیا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے ، حکومت نے دھرنے روکنے کے حوالے سے نوٹیفیکیشن کس قانون کے تحت جاری کیا، لگتا ہے حکومت خود بھی اس معاملے میں سنجیدہ نہیں کیونکہ اس نے بھی مال روڈ پر جلسے جلوس کرنےہوتے ہیں۔

تاجر رہنماء نعیم میر نے کہا کہ دھرنوں سے کاروبار تباہ ہو گیا ہے ، حکومتی پالیسی کے تحت دھرنے کو ناصر باغ تک محدود کیا جائے اور میڈیا کو مال روڈ پر دھرنے کے شرکاء کی کوریج سے روکا جائے۔

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ 2014 سے اپوزیشن حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے حالانکہ ہائی کورٹ نے اس سے قبل عوامی تحریک اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد مارچ اور دھرنے سو روکا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔

پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ایک پتہ بھی نہیں ہلے گا ، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ تاجروں سے زیادہ حقوق ان بچوں اور مریضوں کے ہیں جو اسکول اور اسپتال نہیں پہنچ سکتے . سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

عدالت نے عوامی تحریک کے وکیل سے استفسار کیا کہ بتایا جائے عوامی تحریک کا کیا پلان ہے وہ دھرنا دے گی یا جلسہ کے بعد مال سے چلے جائیں گے۔

جس پر عوامی تحریک کے وکیل اظہر صدیق نے آگاہ کیا کہ رات گئے تک جلسہ ختم کیا جا سکتا ہے تاہم اگر حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تو پھر دھرنا ختم کرنے کا کوئی وقت نہیں دے سکتے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے عدالتی فیصلےکو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی باتیں کی جارہی ہیں ، متحدہ اپوزیشن کا جلسہ آئین کی حکمرانی کے لئے دھرنا دے رہی ہیں، عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ رات گئے دھرنا ختم کر دیا جائے گا اور پرامن رہنے کی مکمل ضمانت دیتے ہیں، احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔

جس پر عدالت نے قرار دیا کہ احتجاج کا حق شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مشروط ہے۔

عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کو احتجاج کیلئے مال روڈپر 12بجے تک کی اجازت دیدی اور حکم دیا کہ میڈیارات 12بجے کے بعد دھرنے کی کوریج نہیں کریگا اور رات 12بجےکےبعدانتظامیہ ٹریفک نظام بحال کرائے گی۔

عدالت نے احتجاجی تحریک چلانے کیخلاف درخواست پر وکلا31جنوری کو بحث کیلئے طلب کرلیا۔


مزید پڑھیں : سانحہ ماڈل ٹاؤن، تخت لاہورگرانے کے لئے متحدہ اپوزیشن بڑے احتجاج کیلئے تیار


گذشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سیاسی جماعتوں کے مال روڈ پر 17جنوری کو ہونے والا دھرنا روکنے کی درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے عوامی تحریک اور پنجاب حکومت سمیت فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ عوامی تحریک ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت سیاسی جماعتوں نے 17 جنوری کو مال روڈ پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے، جو آئین کی خلاف ورزی ہے اس دھرنے سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور امن وامان کے خدشات پیدا ہوں گے لہذا عدالت سیاسی جماعتوں کے دھرنے کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دے۔

درخواست گزاروں نے دھرنے کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا کی جس پر عدالت نے قرار دیا کہ اگر مال روڈ پر جلسے جلوسوں کے حوالے سے کوئی پالیسی موجود ہے تو حکومت اس پر عمل کروائے اور قانون کے مطابق عمل کرے ۔عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کو سنے بغیر حکم امتناعی جاری نہیں کیا جائے گا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں