The news is by your side.

Advertisement

خدیجہ حملہ کیس: ملزم کو شک کا فائدے دیتے ہوئے رہا کیا گیا، تفصیلی فیصلہ

لاہور: ہائی کورٹ نے خدیجہ حملہ کیس کاتحریری فیصلہ جاری کر دیا جس کے مطابق ملزم شاہ حسین کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں تھا اور نہ ہی استغاثہ کی جانب سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے خدیجہ حملہ کیس کا 12 صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ خدیجہ کے خون آلودکپڑے انویسٹی گیشن میں پیش نہیں کیےگئے اور انہیں تحقیقات کے دوران محفوظ نہیں کیا گیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق ملزم شاہ حسین کا ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا جبکہ خدیجہ صدیقی نے 8مئی 2016 کو شاہ حسین کونامزد کیا، خدیجہ نے حملے کے وقت بیان دیا جس وقت وہ اپنے مکمل ہوش میں نہیں تھیں۔

فیصلے کے مطابق خدیجہ نے میڈیکولیگل سرٹیفیکیٹ میں 11زخموں کابتایا جبکہ انہوں نے ٹرائل کےدوران 23زخموں کااعتراف کیا، اس کے علاوہ میڈیکل کی تصدیق کے لیے مذکورہ خاتون بورڈکےسامنے پیش نہیں ہوئیں۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے طالبہ خدیجہ صدیقی پر حملہ کرنے والے مجرم کو بری کردیا

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم نےخدیجہ کوشادی کی پیشکش کی مگرخدیجہ نے ہراساں کرنے کی کوئی قانونی درخواست دائر نہیں کی۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ملزم شاہ حسین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں لہذا اُسے قانون کے مطابق شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ  دو روز قبل قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر حملہ کرنے والے مجرم شاہ حسین کو لاہور ہائیکورٹ نے ناکافی شواہد کی بنا پر بری کردیا تھا، عدالتی فیصلے پر عوام نے شدید ردعمل دیا جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے رہائی کا نوٹس لیا اور لاہور رجسٹری میں اتوار کے روز سماعت کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: خدیجہ حملہ کیس: مجرم شاہ حسین کومجموعی 23 سال قید کی سزا

واضح رہے کہ مقامی عدالت نے ملزم شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی، سیشن عدالت نے سات سال سے سزا کم کرکے پانچ سال کردی، بعد ازاں اسے رہا کردیا گیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ شاہ حسین پر قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر چھریوں کے 23 وار کرکے اسے شدید زخمی کرنے کا الزام تھا، اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے معاملے کا انتظامی نوٹس لیتے ہوئے کیس کا ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسے بھی پڑھیں: خدیجہ کیس: چیف جسٹس نے ملزم کی رہائی کا نوٹس لے لیا

چیف جسٹس کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین نے ایک ماہ میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی، ملزم شاہ حسین پر الزام تھا کہ اس نے اپنی کلاس فیلو قانون کی طالبہ پر چھری کے وار کرکے اسے شدید زخمی کردیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں