site
stats
پاکستان

عدلیہ مخالف تقاریر، نواز شریف، مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو نوٹس جاری

لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کیخلاف عدلیہ مخالف تقاریر پر نوٹس جاری کردیئے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے خاتون شہری آمنہ ملک کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں وفاقی حکومت اور پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما مسلسل اعلی عدلیہ پر تنقید کر رہے ہیں، جڑانوالہ جلسہ میں ن لیگ کے رہنماؤں نے دوبارہ اعلی عدلیہ کی توہین کی جو توہین عدالت کے قانون کے تحت جرم ہے۔

درخواست گزار کے مطابق نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز مسلسل عدلیہ مخالف تقاریر کر رہے ہیں اور پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے فل بنچ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ پیمرا عدلیہ کے خلاف بیانات کو نشر کرنے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اعلی عدلیہ کے خلاف تقاریر پر نواز شریف، مریم نواز، طلال چوھدری اور رانا ثنا اللہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ توہین آمیز تقاریر کی نشریات نہ روکنے پر پیمرا کے خلاف بھی کارروائی کی جائے. درخواست پر آئندہ سماعت 14 فروری کو ہوگی۔


مزید پڑھیں : جڑانوالہ کہہ رہا ہے کہ ہم ججوں کا فیصلہ نہیں مانتے: نوازشریف


یاد رہے کہ نواز شریف نے جڑانوالہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ججز کے فیصلے کو قوم مسترد کردے گی، یہ کون ہیں، جومجھے آپ سے جدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جڑانوالہ کا فیصلہ ہے کہ ہم ججز کا فیصلہ نہیں مانتے۔

انھوں نے عدلیہ کے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اسمبلی میں مجھےعوام نے وزیراعظم بنایا، کیا مجھے کوئی اورنکال سکتا ہے، قوم خود نوٹس لے گی اور سارے فیصلے مسترد کردے گی، تحریک عدل کو یقینی بنائیں گے، یہ تحریک کامیاب ہوگی، تاکہ دادا کے مقدمے میں پوتے نہ پیش ہوں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top