ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

شوہر نکاح نامے کے کسی ابہام کا فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقوق سلب نہیں کرسکتا، لاہور ہائیکورٹ

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر میں دی گئی زمین کے تنازع سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے کہا شوہر نکاح نامے کے کسی ابہام کا فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقوق سلب نہیں کرسکتا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر میں دی گئی زمین کے تنازع سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں موجود کسی ابہام کا فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقوق سلب نہیں کر سکتا۔

جسٹس سلطان تنویر احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سناتے ہوئے سیشن کورٹ کی جانب سے زمین کے بدلے 16 لاکھ روپے ادا کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور معاملہ ازسرنو فیصلہ کرنے کے لیے اپیلٹ کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا تھا اور نکاح کے وقت خاتون کے حق مہر میں دو ایکڑ زمین مقرر کی گئی تھی تاہم بعد ازاں شوہر نے نکاح نامے کے اندراج کا حوالہ دیتے ہوئے زمین منتقل کرنے کے بجائے 16 لاکھ روپے ادا کر دیے تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے اور اس کی شرائط کو فریقین کی اصل نیت اور مفہوم کے مطابق سمجھا جانا چاہیے،عدالتوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نکاح کے وقت خاتون کو اپنے حقوق اور معاہدے کی شرائط کا مکمل ادراک تھا یا نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ اگر زمین کے متبادل رقم ادا کی جانی ہو تو اس کا تعین موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ پرانی یا من مانی مالیت کے مطابق رکھی۔

درخواست گزار سمیرا بی بی نے اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے کیس دوبارہ سماعت اور نئے فیصلے کے لیے متعلقہ عدالت کو بھجوا دیا۔

اہم ترین

عابد خان
عابد خان
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں

مزید خبریں