لاہور : ہائیکورٹ نے درختوں کی کٹائی کے ذمہ دار افسروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے درختوں کی کٹائی اور پارکس کے تجارتی استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی افسر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ نہر کے کنارے درخت کاٹے گئے ہیں، جس پر ماحولیاتی کمیشن کے رکن نے تصدیق کی کہ یہ کٹائی پی ایچ اے کی جانب سے کی گئی ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ بار بار حکم کے باوجود درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ کٹائی کی رپورٹ پیش کی جائے اور ذمہ دار افسر کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے فوری گرفتار کیا جائے۔
عدالت نے ڈونگی گراؤنڈ میں دوبارہ ریسٹورنٹ بنائے جانے اور کینال روڈ پر فلوٹنگ ریسٹورنٹ کی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ "حکومت پارکس میں ریسٹورنٹ کے بجائے لائبریریاں بنائے، کیا حکومت کے پاس اب صرف ریسٹورنٹ بنانا ہی رہ گیا ہے؟ یہ عوامی پیسے کا ضیاع ہے۔”
گلی کوچوں میں قائم غیر قانونی سروس اسٹیشنز کے حوالے سے عدالت نے ہدایت کی کہ ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں تاکہ پانی کے ضیاع اور ماحولیاتی آلودگی کو روکا جا سکے ۔
عدالت نے ناصر باغ میں مجوزہ پارکنگ پلازہ سے متعلق ماہرین کی رائے پر مبنی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 12 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ہے، جس میں پی ایچ اے کی رپورٹ اور دیگر ماحولیاتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


