The news is by your side.

Advertisement

عدالت کا بڑا فیصلہ: پیٹرولیم کمیشن رپورٹ فوری پبلک کرنے کا حکم

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پیٹرولیم کمیشن رپورٹ پر وفاقی حکومت کی مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فوری پبلک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور بحران کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

 
دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ تین دسمبر کےکابینہ اجلاس میں رپورٹ رکھیں گے؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجھےکلیئر ہدایت ملی ہے کہ کل کی میٹنگ میں یہ رکھ لیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے علم میں ہے ہر ہفتے کابینہ کا اجلاس ہوتا ہے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ کمیشن تو عدالت کے حکم کی روشنی میں بنا، اس رپورٹ پر تو عدالت کا استحقاق زیادہ ہے، جس پر حکومتی وکیل نے موقف اپنایا کہ حکومتی اختیار ہے کابینہ اجلاس کے تیس دن تک اسے رکھ سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ساری کابینہ کہہ دے رپورٹ پبلک نہیں کرنی تب بھی پبلک ہونی ہے، رپورٹ پبلک کرنا قانون کی منشا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور ہائی کورٹ کا نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو نوٹس جاری

دوران سماعت چیف جسٹس نے انکوائری کمیشن کےسربراہ ابوبکرخدا بخش کو روسٹرم پر بلا لیا، انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزارت توانائی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں تھا، اوسی اے سی کے پاس بھی مکمل ڈیٹا نہیں تھا۔

اس موقع پر معزز چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ تیس دن کیا آپ نے رپورٹ کو مائیکروویو میں رکھنا ہے، میں رپورٹ پبلک کر رہا ہوں۔

اس موقع پر عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پرب تائیں کوئی معاملہ ایسارہ گیا ہےجس پرمزیدتحقیق کی ضرورت ہے؟، کن کن لوگوں کیخلاف کن قوانین کےتحت کارروائی ہوسکتی ہے؟جولوگ عہدوں پرنہیں رہےانکےخلاف کارروائی ہو سکتی ہے؟ اور کن کن لوگوں کیخلاف فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے؟ کچھ لوگوں نےملک کونقصان پہنچایا، فائدہ حاصل کیاہےتوکیسےکارروائی ہوسکتی ہے؟۔

Comments

یہ بھی پڑھیں