site
stats
پاکستان

گلوبٹ کی سزا کالعدم‘ عدالت نے رہائی کاحکم دے دیا

لاہور: ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کے اہم کردار گلو بٹ کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالت نے دیگر دفعات میں سزا مکمل ہوجانے کے بعد گلو بٹ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ۔

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے گلو بٹ کی اپیل کی سماعت کی۔ گلو بٹ کے وکیل نے دلائل دیے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر گلو بٹ کو گیارہ سال قید کی سزا سنائی جو اس کے جرم سے کہیں زیادہ ہے۔

گلو بٹ کے وکیل کے مطابق مقدمے میں دہشت گردی اور اقدام قتل کی دفعات بعد میں شامل کی گئیں جب کہ گلو بٹ کا عمل دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا نہ ہی اس نے کسی پر قاتلانہ حملہ کیا لہذا دونوں دفعات بدنیتی پر مبنی ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود جو سزا دی وہ انصاف اور قانون کے منافی ہے لہذا ہائی کورٹ سزا کالعدم قرار دے کر گلو بٹ کو رہا کرنے کا حکم دے۔

گلو بٹ جیل میں برتن دھونےپر مامور

 سرکاری وکیل نے دلائل دیے کہ گلو بٹ کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے پورے ملک میں خوف وہراس پھیلا لہذا دی گئی سزا قانون کے مطابق ہے۔

عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد گلو بٹ کو انسدادِ دہشت گردی دفعات کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دے گی جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ دیگر دفعات کے تحت اگر گلو بٹ کی سزا پوری ہو چکی ہے تو اسے رہا کردیا جائے۔

یاد رہے کہ گلو بٹ کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2014 میں ماڈل ٹاون میں توڑ پھوڑاور خوف و ہراس پھیلانے پر گیارہ سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top