لاہور : ہائیکورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا اور ریمارکس دیئے اب لاہور میں دھواں چھوڑنے والی کوئی گاڑی نظر نہیں آنی چاہئے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی سموگ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے کہا کہ سڑکوں پر درجنوں گاڑیاں دھواں چھوڑتی دکھائی دیتی ہیں اور محکمہ ماحولیات کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔
عدالت نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ سڑک پر آئیں تو درجنوں گاڑیاں دھواں چھوڑنے والی نظر آتی ہیں. اب کوئی دھواں چھوڑتی گاڑی نظر نہیں آنی چاہیے
عدالت نے ہدایت کی کہ لاری اڈوں پر محکمہ ماحولیات کے افسران کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات کیے جائیں تاکہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف موقع پر کارروائی کی جا سکے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی احکامات پر بروقت عمل کیا جاتا تو لاہور کی فضا کی صورتحال مختلف ہوتی۔
عدالت نے پرانے ٹائروں کو جلانے یا پراسس کرنے والے پلانٹس کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا۔
عدالت نے درختوں کی کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی معاون کو موقع پر جا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
لاہور ہائی کورٹ نے ڈی جی پی ایچ اے کو حکم دیا کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائی جائے۔
واسا کے سینئر لیگل ایڈوائزر میاں عرفان اکرم نے عدالت میں رپورٹ پیش کی تاہم کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


