عدالت نے ترک اساتذہ کی ملک بدری روکنے کا حکم جاری کردیا -
The news is by your side.

Advertisement

عدالت نے ترک اساتذہ کی ملک بدری روکنے کا حکم جاری کردیا

لاہور:عدالت نے ترک اساتذہ کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے ملک بدری روکنے کے احکامات جاری کردیے۔

تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے ترک اساتذہ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

درخواست گزار وں کے وکلا ءنے عدالت کو بتايا کہ 108 اساتذہ ترکی سے آکر يہاں بچوں کو تعليم دے رہے ہيں،وفاقی حکومت پہلے تو ويزہ ميں توسيع ديتی رہی مگر گيارہ اور چودہ نومبر کو دوبارہ توسيع کی مگر درخواست مسترد کر کے ملک سے نکل جانے کا کہا گيا،عالمي قوانين کے تحت منصوبے کی تکميل تک غير ملکی ورکرز کو ملک بدر نہيں کيا جا سکتا ۔

پاک ترک اسکول بند اورعملے کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

درخواست گزاروں نے استدعا کی عدالت نے وزارت داخلہ کا جاری نوٹفکيشن منسوخ کر کے ملک بدری روکنے کا حکم جاری کرےعدالت نے دلائل سننے کے بعد وزارت داخلہ کا نوٹی فکيشن معطل کرتے ہوئے اساتذہ کی ملک بدری روکنے کا حکم ديتے ہوئےوفاقی اور پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 17 جنوری تک ملتوی کر دی

یاد رہے کہ طیب ایردوان کی پاکستان آمد سے قبل ملک بھر میں قائم فتح اللہ گولن گروپ کے تحت چلنے والے تعلیم اداروں کو بند اور اساتذہ کو ملک چھوڑنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا، خلاف ورزی کرنے والے افراد کو ملک بدر کردیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ملک بھر میں قائم پاک ترک اسکولوں کو فتح اللہ گولن گروپ کی سربراہی حاصل ہے۔ جس میں 108 ترک اساتذہ تعینات ہیں۔

پاک ترک اسکولوں میں تعینات ٹیچرز کے خاندان سے تعلق رکھنے والے 400 افراد بھی ملک کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جنہیں 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں