The news is by your side.

Advertisement

شہید ملت لیاقت علی خاں کو گزرے 65 برس بیت گئے

کراچی: آج پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم شہید ملت لیاقت علی خان کا 65 واں یوم ِ شہادت ملی جذبے کے تحت منایا جارہا ہے، ان کے قتل کا معمہ آج تک حل نہ ہوسکا۔

نوابزادہ لیاقت علی خان یکم اکتوبر اٹھارہ سو پچانوے کو بھارتی پنجاب کے گاؤں کرنال میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی،بعد ازاں لیاقت علی خان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہے جہاں سے آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے برطانیہ چلے گئے۔

 لیاقت علی خان کا قتل کس نے کرایا؟*

مکا چوک کا نام ’’شہید ملت لیاقت علی خان‘‘ چوک رکھنے کا فیصلہ*

سن 1923 میں ہندوستان واپس آتے ہی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی، لیاقت علی خان اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث جلد ہی قائداعظم کے قریب ہو گئے اور تحریک ِپاکستان کے دوران ہر اہم سیاسی معاملے میں قائداعظم کی معاونت کی۔

انیس سو تینتیس میں بیگم رعنا لیاقت علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، قائد ملت لیاقت علی خان برٹش حکومت کی عبوری حکومت کے پہلے وزیرِ خزانہ بھی منتخب ہوئے، قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمدعلی جناح نے انھیں ملک کا پہلا وزیراعظم نامزد کیا، جس پر قائد کے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لئے انھوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن مملکت خداداد پاکستان کے خلاف سازشیں ابتدا میں ہی شروع ہو گئی تھیں۔

لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو راولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ واقعہ انیس سو اکیاون کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام میں اس وقت پیش آیا، جب لیاقت علی خان خطاب کیلئے ڈائس پر پہنچے،اس دوران سید اکبر نامی شخص نے ان پر ریوالور سے گولیاں برسانا شروع کردیں،ان کے آخری الفاظ تھے “خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘، شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کو پولیس نے گولیوں سے اڑا دیا۔

اس عظیم رہنما کی یاد میں راولپنڈی کے کمپنی باغ کو ’’لیاقت باغ‘‘ کے نام سے منسوب کر دیا گیا، لیاقت علی خان کراچی میں مزار قائد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں