پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

جوئیں معمولی نہیں : 12 سالہ بچی کی موت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اشتہار

حیرت انگیز

جوئیں بالوں کی جڑوں سے انسانی خون پی کر زندہ رہتی ہیں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سر کی صفائی نہ کرنے سے جوئیں پیدا ہوتی ہیں ایسا نہیں بلکہ سر کی جوئیں براہ راست رابطے کے ذریعے پھیلتی ہیں۔

یہ ایک سر سے دوسرے سر کے قریبی رابطے (جیسے کھیلتے ہوئے بچوں میں)، آلودہ کنگھی، ٹوپی، یا تولیے کے استعمال سے منتقل ہوتی ہیں۔ اس سے انسان کی جان بھی جاسکتی ہے۔

بھارت میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے والدین اور ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں 12 سالہ بچی سر کی جوؤں کے شدید حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔

طبی ماہرین کے مطابق سر کی جوئیں بچوں، خصوصاً اسکول جانے والی بچیوں میں ایک عام مسئلہ ہیں۔ یہ عموماً قریبی جسمانی رابطے، مشترکہ کنگھی، ٹوپی یا تولیہ استعمال کرنے سے ایک سر سے دوسرے سر میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ ابتدا میں اسے معمولی خارش سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، مگر طویل عرصے تک علاج نہ ہونے کی صورت میں مسئلہ سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔

جوئیں کیوں خطرناک ہو سکتی ہیں؟

جوئیں کھوپڑی سے خون چوستی ہیں اگرچہ ایک جوئی بہت کم مقدار میں خون لیتی ہے، لیکن جب ان کی تعداد سینکڑوں یا ہزاروں میں پہنچ جائے اور مہینوں تک موجود رہے تو یہ صورتحال جسم میں آئرن کی کمی اور خون کی شدید کمی (انیمیا) کا سبب بن سکتی ہے، کمزور مدافعتی نظام والے بچوں میں یہ حالت مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

سر کی جوئیں کیا ہیں؟

سر کی جوئیں چھوٹے پرجیوی کیڑے ہوتے ہیں جو بالوں میں رہتے اور کھوپڑی سے خون حاصل کرتے ہیں۔ ان کے انڈوں کو نِٹس کہا جاتا ہے جو بالوں سے مضبوطی سے چپک جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف بچوں تک محدود نہیں، بالغ افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جن کے بال لمبے ہوں یا جو ہجوم والی جگہوں پر زیادہ رہتے ہوں۔

امریکی ادارے Centers for Disease Control and Prevention کے مطابق سر سے الگ ہونے کے بعد جوئیں عموماً دو دن سے زیادہ زندہ نہیں رہتیں، مگر سر پر موجود رہتے ہوئے تیزی سے افزائش کر سکتی ہیں۔

علامات کیا ہوتی ہیں؟

ماہرین، جن میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین بھی شامل ہیں بتاتے ہیں کہ ابتدا میں واضح علامات سامنے نہیں آتیں۔

بعد ازاں کھوپڑی میں رینگنے کا احساس، شدید خارش، خارش کے باعث زخم، بیکٹیریل انفیکشن، نیند میں خلل اور چڑچڑاپن جیسے مسائل ظاہر ہو سکتے ہیں۔

خون کی کمی کے واقعات

ماضی میں بھی ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 2023 میں سعودی عرب میں ایک بچی کو شدید انیمیا کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں معائنے میں سر کی جوؤں کی غیر معمولی بہتات سامنے آئی۔ اسی طرح 2020 میں جارجیا، امریکہ میں بھی ایک کم عمر لڑکی کی موت کے پس منظر میں یہی وجہ بیان کی گئی تھی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سر کی جوئیں شرمندگی کا نہیں بلکہ علاج کا معاملہ ہیں۔ اگر بروقت تشخیص اور مناسب دوا استعمال کی جائے، بالوں کی صفائی رکھی جائے اور متاثرہ اشیاء کو الگ کیا جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

یہ واقعہ والدین کو یاد دلاتا ہے کہ مسلسل خارش یا سر میں جوؤں کی موجودگی کو ہرگز معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ لاپرواہی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں