ریٹائرمنٹ زندگی میں خوشی لانے کا سبب -
The news is by your side.

Advertisement

ریٹائرمنٹ زندگی میں خوشی لانے کا سبب

کینبرا: آسٹریلیا میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد لوگ زندگی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔

آسٹریلیا سے شائع ہونے والے جریدے ’ایج اینڈ ایجنگ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب لوگ مکمل طور پر کام کرنا بند کردیتے ہیں تو اس کے ایک سال بعد وہ زندگی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اس سے قبل ریٹائرمنٹ کے بعد خوشی کے بارے میں متضاد آرا تھیں۔ بعض ماہرین کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کا لوگوں سے ملنا جلنا ختم ہوجاتا ہے اور زندگی میں کچھ کرنے کا مقصد نہیں رہتا جو انسان میں بیزاری پیدا کرتا ہے۔

دوسرے گروپ کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد لوگ وہ کام کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں جو وہ ساری عمر کرنا چاہتے ہیں پر کر نہیں پاتے۔

اس بارے میں ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، ’ممکن ہے ریٹائرمنٹ کے بعد خوش رہنے کی وجہ یہ ہو کہ ہم اپنے روزمرہ کے کاموں کو زیادہ اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں اور ہمیں کسی چیز کی جلدی نہیں ہوتی‘۔

تحقیق میں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ ریٹائرڈ افراد ریٹائرمنٹ سے پہلے جو کام کرتے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ کام کرنے میں نہایت خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے 124 افراد کو منتخب کیا گیا جن کی عمر تقریباً 62 کے قریب تھی۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ ریٹائرڈ افراد نے جب جسمانی یا سماجی سرگرمی میں حصہ لیا تو وہ زیادہ خوش اور مطمئن پائے گئے جبکہ گھر کے یا دیگر کام کرنے والے افراد نسبتاً کم مطمئن تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خوش رہنے کا تعلق نیند پوری ہونے سے بھی دیکھا گیا۔

تحقیق کے مطابق کل وقتی نوکری سے ریٹائر ہونے والے افراد نے اگر کوئی جز وقتی ملازمت بھی کی تو اس سے ان کی خوشی میں اضافہ ہوا اور وہ اس نوکری سے لطف اندوز ہوتے دیکھے گئے۔

اس بارے میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر کینتھ شلٹز کا کہنا ہے، ’جب لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد کام کرتے ہیں تو ان کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔ آپ کیریئر کے معاملے میں دباؤ میں نہیں ہوتے نہ ہی آپ کو دوڑ میں آگے نکلنے کی فکر ہوتی ہے‘۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگ ریٹائرمنٹ کے قریب ہوتے ہیں انہیں اضافی کام کرنا بوجھ معلوم ہوتا ہے اور اس سے ان کے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں