The news is by your side.

Advertisement

جب کشتیاں سمندر میں نہیں جاتیں‘ تو بھوک گھروں میں آجاتی ہے

کراچی: شہر قائد کی بندرگاہ کیماڑی سے تیس کلومیٹر واقعہ ہاکس بے سے ملحقہ ایک ساحل پر قدیم ساحلی بستی واقع ہے جس کا نام سومار گوٹھ ہے، یہاں کے مکین ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں اور حکومتی غفلت اوربدانتظامی کے سبب سطح غربت سے انتہائی نیچے زندگی بسرکرنے پرمجبورہیں۔

ماہی گیری اس گاؤں کے مکینوں کا قدیمی پیشہ ہے اوروہ نسل درنسل اسی کاروبار سے وابستہ ہیں لیکن موسم گرما میں سمندروں کی طغیانی کے سبب حکومت کی جانب سے سمندروں میں جانے کی پابندی ان کی معیشت کو تہس نہس کرکے رکھ دیتی ہے۔

13
نوراں بی بی – ان کی عمر سو سال سے زائد ہے

اے آروائی نیوز (ویب ڈیسک) نے ’کاریتاس‘ نامی ایک فلاحی ادارے کے رضاکاروں کے توسط سے سومار گوٹھ نامی اس مختصر سی بستی کے مکینوں کے حالات جاننے کی کوشش کی ہے اور آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ کراچی جیسے بڑے شہرکی حدود میں رہنے والے یہ ماہی گیر آج کی اس جدید دنیا میں کن کن بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔


سومارگوٹھ کے رہائشیوں کے رمضان کیسے گزرے


چند روز قبل سومار گوٹھ کا دورہ کیا گیا جہاں ’کاریتاس‘ سرگرمِ عمل ہے اور اس کے مقامی رضاکار ہنگامی حالات میں گاؤں کے مکینوں کو بچانے کے لئے تربیت یافتہ ہیں اورصرف یہی نہیں بلکہ گوٹھ کے رہنے والوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

14
گوٹھ کا ایک منظر

صرف83 گھروں پر مشتمل اس گاؤں کی کل آبادی 860 نفوس پر مشتمل ہےجو کہ ’میر بحر‘ (مچھلی پکڑنے والے) ذات کے لوگ ہیں۔ ان کا بنیادی پیشہ مچھلی پکڑنا اور اسے بیچ کر اپنی روزی کمانا ہے، گاؤں والے سمندر سے جو مچھلی پکڑتے ہیں اسے 20 سے 30 روپے فی کلو بیچتے ہیں شہروں میں یہی مچھلی 400 سے 500 روپے کلو بکتی ہے۔

گفتگو کا آغازاسحاق نامی نوجوان سے کیا جو کہ ایک ماہی گیر ہے۔

اسحاق کا کہنا ہے کہ ماہی گیری آج کے دورمیں کوئی منافع بخش پیشہ نہیں رہا ہے جس کی وجہ کھلے سمندروں میں بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے سارا سال شکار اورحکومتی غفلت ہے، حکومت چھوٹے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ماہی گیری کے پیشے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی اورنہ ہی سمندروں میں طغیانی کے دنوں میں ان کی ضروریاتِ زندگی کا کوئی انتظام کیا جاتا ہے۔

اسحاق کے مطابق ان کی کشتیاں چھوٹی ہیں جو کہ گہرے پانیوں میں نہیں جاسکتیں اور ’ہائی ٹائڈ‘ یعنی طغیانی کے موسم میں تو وہ اپنی کشتیاں پانی میں اتاربھی نہیں سکتے۔

4
ساحل کے کنارے لنگر انداز کشتیاں

اسحاق کا کہنا تھا کہ 2004 سے قبل سمندر میں بے پناہ شکار ہوتا تھا اور وہ جب بھی سمندر میں اترتے تھے توکثیر تعداد میں مچھلی لے کر واپس لوٹتے تھے جس سے ان کی گزر بسر آسانی سے ہوجاتی تھی لیکن اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔

سمندر کی مشکلات جھیلنے والے سخت چہرے کے حامل ماہی گیر کے چہرے پربے بسی اورپریشانی کے آثارنمایاں تھے ، اس نے بتایا کہ سمندر میں جانے والی ایک کشتی میں 12 سے پندرہ ملاح ہوتے ہیں اور بمشکل دس ہزار روپے کا شکار ملتا ہے جس میں سے 2000 روپے کا ڈیزل خرچ ہوجاتا ہے جبکہ ملاحوں کے کھانے پینے کا خرچہ نکال کر ایک شخص کے حصے میں بمشک پانچ سو روپے ہی آپاتے ہیں۔

19

اسحاق کے مطابق شہر جاکر مچھلی فروخت کرنے میں بہت خرچہ آتا ہے لہذا وہ اپنی مچھلی وہیں گوٹھ میں بروکروں کو 20سے 30 روپے فی کلو میں فروخت کردیتے ہیں جو کہ اس مچھلی کو شہر میں 300 سے 400 روپے فی کلو فروخت کرتے ہیں۔

  جامعہ مسجد کی تعمیر کا حیرت انگیز واقعہ

سومار گوٹھ میں واقع واحد مسجد بہت جلد ہی اپنے امام سے محروم ہونے والی ہے، استسفار کرنے پرمعلوم ہوا کہ وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے کوئی باقاعدہ امام متعین نہیں کیا گیا ہے بلکہ بستی کے مکین مخدوش معاشی حالات میں بھی مسجد کے امام کے معاش کا بندوبست خود ہی کرتے ہیں۔

6

گاؤں کے بزرگ حاجی عباس نے مسجد کی تعمیر کا ذکرکرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہلے یہاں ایک کچی سے مسجد ہوا کرتی تھی جس میں محض آٹھ سے دس نمازیوں کی گنجائش تھی، پھر ہوا یوں کہ بھارت سے کوئی بندہ خدا یہاں پکنک یا کسی کام کے سلسلے میں آیا اورجب اس نے کچی مسجد دیکھی تو اس کا دل بھر آیا، اسی مخیر شخص کی کاوش سے یہ مسجد تعمیر ہوئی ہے جس نے مسجد تو بنادی لیکن مقامی لوگوں کواپنا نام تک نہیں بتایا۔

حاجی عباس - اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے
حاجی عباس – اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے

مسجد کی تعمیر کرانے والے مخیر شخص نے مقامی آبادی کو اپنا نام تک نہیں بتایا‘ آج وہی مسجد حکومت کی بے حسی کی داستان سنارہی ہے


مسجد کے امام محمد عابد کا کہنا ہے کہ وہ چار سال سے اس علاقے میں موجود ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ سومار گوٹھ سے لگ بھگ 25 کلو میٹر کے فاصلے پر واقعہ سنہرا پوائنٹ نامی ساحلی بستی میں مقیم ہیں۔

مسجد کے امام محمد عابد
مسجد کے امام محمد عابد

محمد عابد نے ماڑی پورمیں واقع ایک دارالعلوم سے تعلیم حاصل کی ہے اور گوٹھ کے مکینوں سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنے معاشی معاملات چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے نہ کبھی مسجد کی تعمیر و توسیع پر کوئی توجہ دی اور نہ ہی مسجد کے لیےکوئی باقاعدہ امام، موذن یا خادم مقرر کیا ہے جیسا کہ دیگر مساجد میں ہوتا ہے۔

خطرے کی بات یہ ہے کہ ساحل کی جانب تعمیر شدہ مسجد کا حفاظتی پشتہ نیلوفر نامی سیلاب میں ٹوٹ چکا ہے جس سے مسجد کو کئی خطرات لاحق ہیں، مقامی افراد کے مطابق اس کی تعمیرنو کے لیے تین لاکھ کا بجٹ منظورہوا تھا لیکن تعمیر نہیں ہوئی۔ یہاں ایک اوربات قابلِ ذکرہے جو کہ گاؤں کے بزرگوں نے اے آروائی نیوز کو بتائی اوروہ یہ کہ سمندر ہرسال آگے کی جانب بڑھ رہا ہے اور وہ مسجد جو کہ بالکل پانی کے کنارے واقعہ ہے کبھی گاوٗں کے عقبی حصے میں ہوا کرتی تھی اور آج جہاں پانی ہے کبھی وہاں گاوٗں ہوا کرتا تھا۔

مسجد کا طوفان سے متاثر ہونے والا بیرونی حصہ
مسجد کا طوفان سے متاثر ہونے والا بیرونی حصہ

فلاحی تنظیم کا کردار

غیر سرکاری فلاحی تنظیم کاریتاس کے کوارڈینیٹر منشا نور نے اے آروائی نیوزسےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم 2012سے اس علاقے میں کام کررہی ہے، یہاں مسائل بے پناہ ہیں اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

11

انہوں نے بتایا کہ گوٹھ کی آبادی دو حصوں میں منقسم ہے اور درمیان میں ایک برساتی نالہ ہے جوکہ بارشوں کے موسم میں مکمل بھرجاتا ہےاور اس میں حادثات بھی پیش آچکے ہیں، ان کی تنظیم نے اس مقام پر مقامی آبادی بالخصوص عورتوں اور بچوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اس مقام پرایک پکی پلیا تعمیرکی ہے جس کے سبب اب یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

منشا نور کے مطابق انہوں نے یہاں کے مقامی رضاکاروں کی کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی ہے کہ کس طرح سیلاب یا طوفان کی صورتحال میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقام کی جانب منتقل کرنا ہے۔

ان کی تنظیم نے کچھ ماہی گیروں کو شکار کا جال بنانے کے لیے خام مال اورجال بنانے کی تربیت بھی فراہم کی ہے جس کے بعد وہ ماہی گیرمہنگا جال خریدنے کے بجائے کم لاگت میں معیاری جال خود تیارکرلیتے ہیں۔

7

گوٹھ کے مکینوں کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ کھلے سمندر میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے شکار کو کنٹرول کیا جائے تاکہ انہیں بھی شکار میسرآسکے، اور غیر ملکی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شکار کے دوران چھوٹی مچھلیوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا تاکہ ان کی افزائشِ نسل کا سلسلہ نا رکے اور مستقبل میں بھی شکار کا سلسلہ جاری رہے۔

گوٹھ میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے

گوٹھ کے مکین بنیادی سہولیات کے حصول کےلیے بھی حکومت کی ہی جانب دیکھتے ہیں جن میں بجلی، گیس، پانی ، تعلیم ، صحت اور روزگار کے مزید مواقع شامل ہیں۔

حکومت کی جانب سے پانی کی فراہمی پر معمور ٹینکر
حکومت کی جانب سے پانی کی فراہمی پر معمور ٹینکر

یعقوب نامی ماہی گیر نے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گوٹھ کے اجتماعی مسائل پرروشنی ڈالی۔ان کا کہنا تھا کہ سمندر کنارے بسنے والے اس گوٹھ میں پانی نہیں ہے، انہیں سرکار کی جانب سے مفت فراہم کیا جانے والا پانی کا ٹینکر 500 روپے دے کر خریدنا پڑتا ہے جو کہ بمشکل 12 سے 15 دن چلتا ہے اور جب سیزن نہیں ہوتا تو آمدنی نہ ہونے کے سبب یہ رقم ان کے لیے ایک بڑی رقم بن جاتی ہے۔

یعقوب نے بتایا کہ اس علاقے میں 18 سے 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے اور اس کی تصدیق ایسے ہوئی کہ جتنی دیر اے آروائی نیوز کی ٹیم سومارگوٹھ میں موجود رہی بجلی کا نام و نشان نہیں تھا۔

اسکول کا بیرونی منظر
اسکول کا بیرونی منظر
3
گرین کریسنٹ اسکول کا امدرونی منظر

بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے سرکار نے عمارت تو بنائی تھی لیکن سرکاری ٹیچرمحض حاضری لگانے آتا ہے۔ گرین کریسنٹ نام کی ایک فلاحی تنظیم نے اسکول کو گود لیا ہوا ہے اور ان کے ٹیچر مقامی آبادی کے بچوں کو پرائمری کی سطح تک تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

گوٹھ میں علاج معالجے کی سہولت

آج کے ترقی یافتہ دورمیں کراچی جیسے بڑے شہرکے بالکل ساتھ آباد اس گوٹھ میں علاج معالجے کی سہولیات کے نام پر اسپتال تو دورکی بات کوئی ڈسپنسری تک نہیں ہے، حکومت کی جانب سے محض ایک مقامی خاتون ثمینہ محمد علی کو لیڈی ہیلتھ ورکر تعینات کیا ہے جو کہ اپنی استعداد کے مطابق آبادی کے بیماروں کو مشورے دے دیا کرتی ہیں اوراگرکوئی زخمی ہوجائے تو اس کی مرہم پٹی کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں۔

17


گوٹھ میں آباد110 خاندانوں کے 860 افراد کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے


ثمینہ کہتی ہیں کہ ’’حکومت کی جانب سے خواتین اور بچوں کی صحت پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ، انہیں سامان بھی مکمل نہیں ملتا اور اکثرو بیشتر وہ اپنے پاس سامان لاکر رکھتی ہیں تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں کام آجائے‘‘۔

1

مقامی آبادی نے اپیل کی ہے کہ حکومت سمندر میں کم ہوتے شکار، آگے بڑھتے سمندر جیسے سنگین مسائل پر فی الفور اقدامات کرے اور محض ساڑھے آٹھ سو افراد کے لگ بھگ اس آبادی کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ان کی مدد کو یقینی بنائے۔ مذکورہ افراد کا کہنا تھا کہ وہ بھی انسان اور پاکستان کے شہری ہیں اورزندگی کی بنیادی سہولیات پر ان کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ پاکستان کے دوسرے شہریوں کا لہذا حکومت کو چاہیے کہ صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات کا اہتمام ان کے اپنے علاقے میں کرے۔

تصاویر: پیارعلی

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں