پاکستان کے گلی کوچوں میں بسنے والے عام انسان کی کہانی کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہاں ہر دوسرا شخص ایک ایسی جنگ کا سپاہی ہے جس کا محاذ معاشی تنگ دستی، بے لگام مہنگائی اور معاشرتی ناانصافی ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی خبر نے ذہنوں کو سلگایا ہی تھا کہ اس کے ساتھ جڑی مہنگائی کے طوفان کا خوف ہر دہلیز پر دستک دینے لگا ہے۔ اس کے باوجود، کمال یہ ہے کہ ہم لوگ ہار ماننے کے بجائے حالات کو بہلانے کا ہنر جانتے ہیں۔
جب بجلی کا بل مہینے بھر کی کمائی کو نگلنے لگتا ہے، تو ہم احتجاج کرنے اور غصے میں بجلی گھر کو جلانے کے بجائے ایک پارٹ ٹائم نوکری تلاش کر لیتے ہیں۔ جب پیٹرول کی قیمتیں آسمان چھوتی ہیں، تو ہم موٹر سائیکل پر تین بچوں کو بٹھا کر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے کسی عزیز کی شادی میں شریک ہونے نکل پڑتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ اگر ریاست کا ڈھانچہ کمزور ہے یا کرپشن کی دیمک نے اداروں کو چاٹ لیا ہے، تو ہمیں خود ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے۔
پاکستان میں جرائم اور عدم تحفظ کی لہر کے باوجود اگر زندگی کی چہل پہل برقرار ہے، تو اس کی وجہ وہ "سماجی ڈھارس” ہے جو ہم ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ ہم لوگ اپنی محرومیوں کا رونا رونے کے بجائے دستر خوان وسیع کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں بھی کسی فٹ پاتھ پر بیٹھے مزدور کو کوئی اجنبی کھانا کھلا کر گزر جاتا ہے، اور یہیں سے امید کا وہ دیا روشن ہوتا ہے جو کرپشن کی تاریکی کو مات دے دیتا ہے۔ عام آدمی سیاست دانوں کی الزام تراشیوں اور ٹی وی ٹاک شوز کے ماتم سے دور، اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو غنیمت جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حالات بدلنے میں شاید صدیاں لگ جائیں، لیکن اپنے بچوں کے چہرے پر ایک کھلونا ملنے کی خوشی دیکھ کر جو سکون ملتا ہے، وہ فوری اور حقیقی ہے۔
حالات کے بہلائے ہوئے ہم لوگ دراصل اس مٹی کی اصل طاقت ہیں۔ ہم نظام کی خرابیوں کو اپنی تقدیر نہیں مانتے بلکہ ان کے درمیان سے راستہ نکالنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ کوئی تپتی دھوپ میں ریڑھی لگا کر حلال رزق کما رہا ہے تو کوئی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے دوسروں کی مدد کر رہا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس نے ناانصافی کو اپنی فطرت کا حصہ نہیں بننے دیا، بلکہ صبر اور محنت کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔ ہماری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ جب اردگرد سب کچھ بکھر رہا ہو، تب بھی انسانی ہمدردی، محنت اور زندہ دلی کے سہارے زندگی کو نہ صرف گزارا جا سکتا ہے بلکہ اسے ایک خوبصورت معنی بھی دیے جا سکتے ہیں۔ ہم شکست خوردہ نہیں، بلکہ وہ فاتح ہیں جو ہر روز سورج ڈھلنے تک اپنی ہمت سے حالات کو شکست دیتے ہیں۔


