The news is by your side.

Advertisement

معاشرتی تفریق کوشکست دینے والی باہمت خاتون

پاکستان کی خواتین بالخصوص دیہات سے تعلق رکھنے والی عورتیں تعلیم اور حقوق سے قطعی بے بہرہ ہیں تاہم ان میں سے کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جنہوں نے اپنی الگ ہی دنیا رقم کی ہے۔ ان میں سے خواتین کی تعلیم اور معاشی خوشحالی کے لیے کوشاں غلام صغرا سولنگی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے دکھوں کا مداوا دوسروں کے درد بانٹ کرکیا۔

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ پر آمنا صدقنا کہنے والے شاید اس بات سے ناواقف ہیں کہ قدرت نے اس جہاں میں خواتین کو بھی جینے کا حق دیا ہے اور وہ بھی اچھی صحت ‘ تعلیم اور بہتر معاشی مواقع کی ویسی ہی مستحق ہیں جیسا کہ مرد حضرات ہیں۔

معاشرے کو یہی بات سمجھانے کے لیے صغرا گزشتہ کئی برسوں سے کوشاں ہیں۔ اپنے گاؤں کی دیگر کئی لڑکیوں کی طرح ان کی شادی بھی محض 12 سال کی عمر میں ہوگئی تھی اور محض یہی نہیں بلکہ چھ سال بعد ان کے بیرونِ ملک مقیم شوہر نے انہیں طلاق دے دی اوروہ اپنے دوبچے لیے واپس اپنے والدین کے گھر آگئیں تھیں۔ صغرا کے مطابق ان کے شوہر کا موقف تھا کہ ’’وہ خوبصورت اور تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور اسے ان سے بہتر بیوی مل سکتی ہے ‘‘۔

مزید پڑھیں: کم عمری کی شادیاں عالمی ترقی کے لیے خطرہ

صغرا نے گھر آکر تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور اس راہ میں بھی بے پناہ مشکلات اٹھائیں۔ گاؤں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوئی اسکول نہیں تھا‘ انہوں نے اسکول جانے والے لڑکوں سے سیکھنا شروع کیا اور اسی طرح جدوجہد کرتے پرائیویٹ میٹرک کا امتحان دے دیا جس میں انہیں کامیابی ملی۔


صغرا بتاتی ہیں کہ اس عرصے میں وہ ایک بار اس قدر دلبرداشتہ ہوگئی تھیں کہ اپنے بچوں کو لے کر

خودکشی کے لیے نہر کنارے جا پہنچیں تاہم ان کے بیٹے کے آنسوؤں نے انہیں روک لیا


حکومت نے اعلان کیا کہ اگر گاؤں میں کوئی پڑھی لکھی لڑکی بچیوں کو تعلیم دینے کے لیے تیار ہے تو وہاں اسکول بنے گا‘ انہوں نے انٹرویو دیا اورانہیں لڑکیوں کو پڑھانے کے لیے ٹیچر کی نوکری مل گئی‘ لیکن اگلا مرحلہ شاید تعلیم حاصل کرنے سے بھی زیادہ دشوار تھا۔

مزید پڑھیں: بائیک پر طویل سفر کر کے فرائض کی انجام دہی کرنے والی معلمہ

جب لڑکیوں کی ماؤں سے کہا گیا کہ وہ اپنی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول بھیجیں تو انہوں نے انکار کردیا۔ وجہ سماجی سے زیادہ معاشی تھی کہ خواتین کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور لڑکیاں گھر سنبھالتی ہیں ‘ چھوٹے بچوں کو سنبھالتی ہیں الغرض ماں کی غیر موجودگی میں چھوٹی ماں کا کردار ادا کرتی ہیں۔

صغرا نے خواتین کو معمولی رقم سے مختصر پیمانے پر کاروبار کرانے کا تجربہ کیا جو کہ کامیاب رہا جس کے سبب ان کی معاشی حالت بہتر ہوئی اور ان کے گھریلو حالات بہتر ہوئے تو گنجائش پیدا ہوئی کہ وہ اپنی بچیوں کو تعلیم کے حصول کے لیے اسکول بھیج سکیں۔ گویا اس طرح خواتین کی معاشی مدد اور لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا جو اب سندھ کے بارہ اضلاع میں ماروی رورل ڈیلوپمنٹ آرگنائزیشن کی شکل میں پھیلا ہوا ہے ‘ اس کی روح رواں غلام صغرا ہیں اور یہ تنظیم انسانی حقوق‘ صحت تعلیم اور سماجی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا پر انمٹ نقوش مرتب کرنے والی خواتین

صغرا کو 2011 میں خواتین کے لیے امریکہ کا بہادر خواتین کے لیے مختص عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے یہ ایوارڈ مشعل اوباما اور ہیلری کلنٹن سے وصول کیا۔ اس حوالے سے صغرا کا کہنا ہے کہ یہ میرے لیے اور میرے ملک کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

اس سے قبل پاکستان میں یہ ایوارڈ 2008 میں قبائلی علاقہ جات میں خواتین کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں بیگم جان کو دیا گیا تھا جو کہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں