The news is by your side.

Advertisement

شٹل سروس ہونے کے باوجود پیدل سفر، جامعہ کراچی کی طلبہ کی زندگی اجیرن بن گئی

کراچی : ملک کی سب سے بڑی اور نامور یونیورسٹی جامعہ کراچی کے طلباء و طالبات شٹل سروس ہونے کے باوجود لفٹ لیکر سفر کرنے پر مجبور ہوگئے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں جامعہ کراچی کے طلباء و طالبات کی مشکلات و دشواری پر ایک رپورٹ پیش کی گئی، جس میں مستقبل کے ستارے شٹل سروس ہونے کے باوجود جامعہ کے اندر کا طویل سفر پیدل طے کررہے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو شٹل سروس ہوتے ہوئے بھی ایک ڈپارٹمنٹ سے دوسرے ڈپارٹمنٹ جانے کےلیے مجبوراً ایک دوسرے سے لفٹ لینی پڑتی ہے۔

پاکستان کا مستقبل سنوارنے والے طلباء و طالبات کا حال مشکلات سے دوچار ہے ،اپنے بہتر مستقبل کے حصول کےلیے یہ بیچارے کئی کئی کلومیٹر کا سفر پیدل طے کررہے ہیں لیکن ارباب اختیار کو کوئی خیال نہیں۔

یونیورسٹی کے اندر چلنے والے رکشے طلباء و طالبات سے بھاری کرایہ وصول کرتے ہیں اور ایک ڈپارٹمنٹ سے دوسرے ڈپارٹمنٹ تک جانے کےلیے تیس سے 40 روپے وصول کیے جاتے ہیں۔

طلباء و طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں یونیورسٹی کے اندر سفر کرنے میں بہت زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی کئی کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا ہے اور راستے میں کہیں کوئی شیڈ بھی موجود نہیں ہے۔

طالبعلموں نے کہا کہ ابھی تو سردیاں ہیں کسی طرح پیدل چل لیتے ہیں یا لفٹ مل جاتی ہے لیکن گرمیوں میں یہ سفر ہماری زندگی اجیرن کردیتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں