site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

تیز ترین انٹرنیٹ، 50 جی بی فی سیکنڈ ڈیٹا منتقلی کا کامیاب تجربہ

lifi technology

بیجنگ: چینی ماہرین نے لائی فائی ٹیکنالوجی میں نینو ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے 50 جی بی فی سیکنڈ ڈیٹا منتقلی کا کامیاب تجربہ کرکے دنیا بھر کے آئی ٹی ماہرین کو پیچھے چھوڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے فروغ اور اسے وسعت دینے کے لیے ماہرین کی ٹیم چین کی یونیورسٹی چائنیز اکیڈمی آف سائنسز میں تجربات کررہی ہے، سائنسی ماہرین نے تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت لائی فائی کا کامیاب تجربہ کیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آئندہ چھ برسوں میں عوام کی دسترس میں ہوگی۔

ماہرین کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے انٹرنیٹ کی سروس کو تیز تر کرنے اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے لائی فائی میں کاربن نینو میٹریل کو استعمال کر کے تجربہ کیا جس کے بعد انٹرنیٹ کی منتقلی رفتار میں کافی فرق پڑا اور یہ اسپیڈ ریڈیو کی لہروں کے موافق تیز ہوگئی۔

پڑھیں: جدید ٹیکنالوجی کی بدولت وائی فائی کا متبادل

چائنیز اکیڈمی آف سائنس میں ہونے والی تحقیق میں دنیا بھر کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں۔

محقق کاروں کا کہنا ہے کہ نایاب زمینی میٹریل یوریا وغیرہ کو اس دوران استعمال کیا گیا جس کے ذریعے ایف سی ڈیزائنز سے انٹرنیٹ کی رفتار کو برقرار رکھنے میں کافی مدد ملی اور رفتار وائی فائی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی کیونکہ لائی فائی میں ڈیٹا کی منتقلی کے لیے ایل ای ڈی بلب کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق لائی فائی ٹیکنالوجی کی اس موجودہ پوزیشن سے ایک بہترین ریزولیشن پرمبنی بلورے یا فور کے ریزولیشن پر مبنی فلم ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ڈاؤن لوڈ کی جاسکے گی یعنی پلک جھپکتے ہی۔

قبل ازیں روشنی سے چلنے والی لائی فائی نامی ٹیکنالوجی 2013 میں متعارف کروائی گئی تھی تاہم اس کو بہترین بنانے کے لیے ماہرین مسلسل تجربات کررہے ہیں، برطانوی ماہرین لائی فائی کی 40 جی بی فی سیکنڈ اسپیڈ کا تجربہ کرچکی ہے تاہم اب چینی ماہرین نے نیا تجربہ کر کے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یاد رہے کہ انٹرنیٹ کی وسط دینے کے لیے ماہرین وائی فائی سے زیادہ جدید ٹیکنالوجی متعارف کروارہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ لائی فائی انٹرنیٹ کی اسپیڈ 50 جی بی فی سیکنڈ ہوگی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top