نیویارک(20 جولائی 2026): دنیائے فٹبال کے عظیم ترین کھلاڑی لیونل میسی کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ یادگار نہ بن سکا اور وہ فائنل میں اسپین کے ہاتھوں شکست کے بعد روتے ہوئے میدان سے رخصت ہو گئے۔
پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو کی طرح میسی کا ورلڈ کپ کا سفر بھی انتہائی مایوس کن انداز میں ختم ہوا، جہاں سلور میڈل وصول کرنے کے بعد ارجنٹینا کے کپتان اپنے آنسو نہ روک سکے۔
میچ کے اختتام پر لیونل میسی کافی دیر تک میدان میں اداس بیٹھے اسپین کی ٹیم کو جشن مناتا دیکھتے رہے، یہ ممکنہ طور پر ارجنٹینا کی قومی ٹیم کی جرسی میں ان کا آخری ورلڈ کپ تھا۔
View this post on Instagram
2026 کا یہ ایونٹ میسی کا چھٹا ورلڈ کپ تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے مردوں کے فٹبال میں سب سے زیادہ ورلڈ کپ کھیلنے کا عالمی ریکارڈ برابر کر دیا۔ اس کے علاوہ وہ تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے تین ورلڈ کپ فائنلز میں اسٹارٹنگ الیون کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ کارکردگی کے لحاظ سے یہ ان کا بہترین ورلڈ کپ رہا، جس میں انہوں نے 8 گول اسکور کیے اور 4 اسسٹ دیے۔
میسی کے اس جذباتی الوداع پر ارجنٹائن فٹبال ٹیم کے آفیشل ہینڈل نے پیغام جاری کیا کہ کپتان! آپ کے آنسو ہمارے آنسو ہیں۔ آپ نے ہمیں زندگی کی سب سے بڑی خوشیاں دیں، جادوئی کھیل اور آخری سیکنڈ تک لڑنے پر آپ کا شکریہ۔
SIMPLY… THANK YOU, LEO. 🇦🇷✨
Lionel Messi has played his final World Cup match. 💔🏆
It was a journey filled with records, goals, and glory. Your legacy and your 8 Ballons d’Or are eternal. 🌕
🔗 More about his golden career on https://t.co/Nr7sHS7cSv!#ballondor #worldcup… pic.twitter.com/6HK65IiZSx
— Ballon d’Or (@ballondor) July 19, 2026
نامور فٹبال مبصرین نے بھی میسی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میسی کو روتا دیکھنا فٹبال کے ہر مداح کے لیے افسردہ کن ہے، انہوں نے اکیلے اس اوسط درجے کی ٹیم کو فائنل تک پہنچایا۔
مداحوں کا کہنا تھا کہ میسی نے 20 سال تک فٹبال کی دنیا پر راج کیا اور فٹبال کا کھیل ان کی وجہ سے زیادہ خوبصورت تھا، وہ ہمیشہ فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی رہیں گے۔


