The news is by your side.

Advertisement

شراب لائسنس کیس: سابق ڈی جی ایکسائز کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ نیب انکوائری میں نیا انکشاف

لاہور : شراب لائسنس کیس میں سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل کو گرفتار کرنے کے حوالے سے تفصیلات سامنے آگئیں اور انکشاف ہوا جس ہوٹل کو لاٸسنس جاری ہوا وہ اس معیار کا تھا ہی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق شراب لائسنس کیس میں سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات سامنے آگئیں۔

نیب حکام کی جانب سے ملزم پر الزامات کے حوالے دستاویزات کے مطابق جب نجی ہوٹل کو غیر قانونی طور پر شراب لائسنس کیٹگری ایل 2- کے اجراء کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ مذکورہ نجی ہوٹل شراب لائسنس کے حصول کیلئے درکار قانونی معیار کا حامل نہ تھا ۔

نیب کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی نے شراب لائسنس کے اجراء کیلئے ضروری اقدامات کو مد نظر رکھا نہ ہی قوانین کو ، اکرم اشرف گوندل نے قانون کو مدنظر رکھے بغیر نجی ہوٹل کو L-2کیٹگری لائسنس کے اجراء میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں : شراب لائسنس کیس : سابق ڈی جی ایکسائز اشرف گوندل 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے‌ حوالے

حکام نے مزید کہا کہ نجی ہوٹل کو فائدہ پہنچانے کیلئے ملزم نے مختلف اداروں سے غیر قانونی لائسنس کے اجراء کیلئے این او سی حاصل کیے،ملزم نے ہوٹل کو فاٸدہ پہنچانے کے لیے قوانین کونظرانداز کر کے معاملے پر اثر انداز ہوا

گذشتہ روز احتساب عدالت نے شراب لائسنس کیس میں سابق ڈی جی ایکسائز اشرف گوندل کو 10روزہ جسمانی ریمانڈپرنیب کےحوالےکرتے ہوئے ملزم کو دوبارہ 28 ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

اکرم اشرف گوندل پرنجی ہوٹل کولائسنس غیرقانونی دینےکاالزام ہے، نیب کا کہنا تھا کہ اکرم اشرف گوندل نےشراب لائسنس کےاجراکیلئےقانون کونظراندازکیا ، نجی ہوٹل کوپہلےایل2کیٹیگری لائسنس کےاجرامیں اہم کردار ادا کیا، غیر قانونی لائسنس اجرا کے لئے خلاف ضابطہ این او سی جاری کیاگیا، کیس میں نیب طلبی پروزیراعلیٰ اورپرنسپل سیکریٹری بھی پیش ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں