قائد اعظم کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ پنجاب سے آج تک، کون اس عہدے پررہا -
The news is by your side.

Advertisement

قائد اعظم کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ پنجاب سے آج تک، کون اس عہدے پررہا

وزارتِ اعلیٰ پنجاب‘ افتخار حسین ممدوٹ سے حسن عسکری تک

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے تحریک انصاف آئندہ دو روز میں اپنی جانب سے نامزد کردہ امیدوار کے نام کا اعلان کرے گی، یاسمین راشد اور علیم خان کے نام وزارتِ اعلیٰ کے لیے سرخیو ں کی زینت بنے ہوئے ہیں، دیکھتے ہیں کون کب اس عہدے پر فائز رہا۔

تحریک انصاف کااپارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج عمران خان کی صدارت میں منعقد ہواہے ، وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے یاسمین راشد یا علیم خان کا نام پر زیرغور ہے تاہم کوئی نیا چہرہ بھی اس عہدے کے لیے منتخب ہوسکتا ہے۔اجلاس میں اسپیکراورڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے امیدواروں کے لئے بھی ناموں پر غور ہوگا۔

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کون اس عہدے پر کتنی مدت کے لیے براجمان رہا ہے۔ پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ تھے جنہیں قائد اعظم نے وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا تھا۔

افتخارحسین خان ممدوٹ:

نواب افتخارحسین خان ممدوٹ پنجاب سے تعلق رکھنے والےسیاستدان تھے، وہ 15 اگست 1947ءسے 25 جنوری 1949ءتک پنجاب کےپہلےوزیراعلیٰ رہے،انہیں قائداعظم محمدعلی جناح نےوزیراعلیٰ مقررکیاتھا۔

میاں ممتاز دولتانہ:

15 اپریل 1951 سے 3 اپریل 1953 تک میاں ممتاز دولتانہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، وہ تحریک پاکستان کے سرگرم رکن رہے جنہوں نے قائد اعظم کے ساتھ مل کر پاکستان کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

ملک فیروز خان نون:

3 اپریل 1953 سے 21 مئی 1955 تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، آپ پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھے، اعلیٰ تعلیم انگلستان سے حاصل کی، بعد ازاں ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے۔

عبد الحمید خان دستی:

عبدالحمیدخان دستی 21 مئی 1955ءسے 14 اکتوبر 1955ءتک وزیراعلیٰ پنجاب رہے، امجدحمیدخان دستی ان کےصاحبزادےتھے، عبدالحمیدخان دستی 1895 میںمظفرگڑھ میں پیداہوئے۔

ملک معراج خالد:

2 مئی 1972 سے 12 نومبر 1973 تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، معراج خالدپیپلزپارٹی میں شامل ہونےوالےابتدائی لوگوں میں شامل تھےاورپیپلزپارٹی کےٹکٹ پرلاہورسے 1970ءکےانتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

غلام مصطفیٰ کھر:

12 نومبر 1973 سے 15 مارچ 1974 تک وزیر اعلیٰ کا قلمدان سنبھالا، پنجاب سے تعلق رکھنے والے غلام مصطفیٰ پنجاب کے وزیر گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

حنیف رامے:

حنیف رامے انیس سو بہترمیں پاکستان پیپلزپارٹی کےعہد میں وہ پہلےپنجاب حکومت میں مشیرخزانہ بنےاوربعد میں مارچ انیس سوچوہتر میں وزیراعلی ٰپنجاب منتخب ہوئے، وہ 15 مارچ 1975 سے 15 جولائی 1975 تک وزیر اعلیٰ رہے۔

صادق حسین قریشی:

15 جولائی 1975 سے 5 جولائی 1977 تک وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر فائز رہے، وہ مارچ 1974ءتا 13 مارچ 1975صوبہ پنجاب کےگورنربھی رہے۔

نواز شریف:

میاں نواز شریف مسلم لیگ ن کے سابقہ قائد ہیں، وہ 9 اپریل 1985 سے 13 اگست 1990 تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، نوازشریف تین بار 1990ءتا 1993ء، 1997ءتا 1999ءاورآخری بارء2013 تا 2017ءوزیراعظم پاکستان بھی رہے، انہیں کرپشن اور دیگر چارجز میں برطرف کیا گیا اور دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔

غلام حیدر وائن:

8 نومبر 1990 سے 25 اپریل 1993 تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، ان کا تعلق اس وقت کے اسلامی جمہوری اتحاد سے تھا، آپ پارٹی میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

منظور وٹو:

غلام حیدر وائن کے بعد مسلم لیگ ج سے تعلق رکھنے والے منظور وٹو نے وزارت اعلیٰ کا قلمدان سنبھالا، وہ 25 اپریل 1993 سے 19 جولائی 1993 تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔

منظور الہٰی:

منظور الہٰی نگراں وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائن کے بعد بنے، وہ 19 جولائی 1993 سے 20 اکتوبر 1993 تک پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ رہے۔

منظور وٹو:

منظور وٹو نے دوسری بار وزارت اعلیٰ کا قلمدان سنبھالا جس کے بعد وہ 20 اکتوبر 1993 سے 13 ستمبر 1995 تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔

سردار عارف نکئی:

13 ستمبر 1995 سے 3 نومبر 1996 تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے رکن بھی رہے اس کے علاوہ مختلف شعبوں کے وزیر بھی رہے، ان کا 20 فروری سن 2000 میں لاہور میں ہوا۔

منظور وٹو:

منظور وٹو اس بار پنجاب کے تیسری بار وزیر اعلیٰ بنے اور 3 نومبر 1996 سے 16 نومبر 1996 تک قلمدان اپنے پاس رکھا، وہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے، تعلق تو ان کا مسلم لیگ ج سے تھا لیکن انہوں نے بعد میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

میاں افضل حیات:

16 نومبر 1996 سے 20 فروری 1997 تک نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، ان کے تعلق پنجاب کے ضلع گجرات سے تھا، بعد ازاں انہوں نے دسمبر 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔

شہباز شریف:

شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر ہیں، وہ پہلی بار 20 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999 تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، شہبازشریف 1988ءمیں پنجاب صوبائی اسمبلی اور 1990ءمیں قومی اسمبلی پاکستان کےرکن بھی رہے، 1993ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی کےرکن منتخب ہوئےاورقائدحزب اختلاف بھی نامزد کیے گئے تھے۔

چوہدری پرویز الہٰی:

چوہدری پرویز الہٰی بھی پاکستان کےسب سےبڑےصوبےپنجاب کے 2002ءسے 2007ءتک وزیراعلیٰ رہے، وہ پاکستان کےپہلےنائب وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں، وہ پاکستان مسلم لیگ ق کےاہم رہنمااورصوبائی صدربھی ہیں۔

شیخ اعجاز نثار:

چوہدری پرویز الہٰی کے بعد شیخ اعجاز نثار پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ نامزد ہوئے، وہ 19 نومبر 2007 سے 11 اپریل 2008 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

دوست محمد کھوسہ:

دوست محمد کھوسہ 2007 سے 2008 تک تین ماہ پنجاب کےوزیراعلیٰ رہے، 1999ءمیں اپنےوالدکی چھوڑی ہوئی نشست پرپنجاب اسمبلی کےرکن منتخب ہوئے، گزشتہ کئی سالوں تک وہ مسلم لیگ ن کےڈیرہ غازی خان کےصدربھی رہے ہیں۔

شہبار شریف:

شہباز شریف دوسری مرتبہ 8 جون 2008 سے 25 فروری 2009 تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، وہ 1988ءمیں پنجاب صوبائیاسمبلی اور 1990ءمیں قومی اسمبلی پاکستان کےرکن بھی رہے۔ 1993ءمیں پنجاب صوبائی اسمبلی کےرکن منتخب ہوئےاورقائدحزب اختلافب ھی نامزد کیے گئے تھے۔

2009ءمیں جب اس وقت کے صدرآصف علی زرداری نےگورنرراج کانفاذکرکےسلمان تاثیرکوگورنرپنجاب نامزدکیاتوشہبازشریف معزول ہوگئے،شریف برادران نےعدالت کی بحالی کےلیےیوسفرضاگیلانی کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیاجس کےنتیجے میں عدلیہ بحال ہوگئی اورگورنرراج ختم ہوگیا۔ گورنر راج ختم ہوا تو شہباز شریف بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب دوبارہ بحال ہوگئے اور 30 مارچ 2009 سے 26 مارچ 2013 تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہے۔

نجم سیٹھی:

نجم سیٹھی بحیثیت نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب 27 مارچ 2013 سے 7 جون 2013 تک رہے، نجم سیٹھی کی شہرت بطورصحافی ہے،مارچ 2013ءمیں انتخابات سےپہلےبطورنگران وزیراعلی ٰمقررہوئے،یوں پنجاب کے 16 ویں وزیراعلیٰ بنے۔

شہباز شریف:

پنجاب کی تاریخ میں تیسری بار شہباز شریف 8 جون 2013 کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنے اور مئی 2018 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

حسن عسکری:

پنجاب کے موجودہ نگراں وزیر اعلیٰ حسن عسکری ہیں جنہوں نے مئی 2018 میں حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور پنجاب کے 18 ویں وزیراعلیٰ قرار پائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں