The news is by your side.

Advertisement

فیصل آباد: دودھ فروش کے ہاتھوں دوسری جماعت کی طالبہ زیادتی کے بعد قتل

فیصل آباد: پنجاب کے شہر فیصل آباد میں دودھ بیچنے والے شخص نے دوسری جماعت کی معصوم طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کے علاقے عوامی اسٹریٹ میں ایک بد بخت دودھ فروش نے دوسری جماعت کی طالبہ کو مبینہ زیادتی کے بعد جان سے مار دیا۔

بچی کے قتل کے ذمہ داروں کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔

صدمے سے نڈھال ماں کا مطالبہ

طالبہ کی بوری بند لاش فیکٹری سے ملی، قتل میں نامزد دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

مقتولہ بچی کے والد لیاقت کا کہنا ہے کہ سات سالہ بچی دودھ لینے گئی تھی، جس کے بعد واپس نہیں آئی۔

صدمے سے نڈھال ماں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی بچی کے قتل کے ذمہ داروں کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔

پولیس نے معصوم بچی کے والد کی مدعیت میں اغوا اور قتل سمیت تین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے نامزد ملزمان دودھ فروش سلیم اور زاہد کو گرفتار کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  فیصل آباد: گھر کے باہر سے لاپتا بچے کی لاش نہر سے مل گئی

یاد رہے کہ 28 ستمبر 2018 کو فیصل آباد میں ایک چار سالہ بچے کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، معصوم بچے کی لاش کو ڈچ کوٹ کے گندے میں پھینک دیا تھا۔

بچے کے والد اقبال حسن نے کہا کہ مقتول ایک غریب کا بچہ تھا اس لیے پولیس تلاش نہ کر سکی، کسی بڑے آدمی کا بچہ ہوتا تو پولیس فوراً تلاش کر لیتی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں