وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جس میں مزدور کی کم از کم تنخواہ میں 10 فیصد، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
- تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ
- اپنا گھر اسکیم کیلئے 71 ارب مختص
- مزدور کی کم از کم تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ
- تنخواہ دار طبقے کے لیے 4 سلیب میں ریلیف
- سپر ٹیکس میں ریلیف
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر خزانہ نے کہا کہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہا ہوں بجٹ تیاری میں وزیراعظم شہبازشریف اور بلاول بھٹو کا مشکور ہوں، بھارتی جارحیت کا پاکستانی فورسز نے بھرپور اور منہ توڑجواب دیا، بنیان مرصوص کی کامیابی ہماری تاریخ کاروشن باب ہے بنیان مرصوص میں عظیم کامیابی پرفخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاع معاشی قوت بننے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے پاکستان کا امیج آج ایسا ہےکہ دنیا بھر میں اس کی آوازسنی جاتی ہے، مضبوط دفاع ہماری معاشی ترقی کےلیے اہم ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک معاہدہ اہم ہے آج دنیا پاکستان کی دفاعی قوت کی معترف ہے مضبوط دفاع ہماری سالمیت کیلئےاہم اورمعاشی ترقی کیلئےبھی اہم ہے۔
تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
اپنا گھر اسکیم
آئندہ مالی سال میں وزیر اعظم اپنا گھر اسکیم کیلیے 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔
کم از کم تنخواہ میں اضافہ
بجٹ 2026-27 میں مزدور کی کم از کم تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 3 سے 4 ہزار روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف
وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 میں انکم ٹیکس میں تنخواہ دار طبقے کیلیے 4 سلیب میں ریلیف فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔ آئندہ مالی سال سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 23 سے 20 فیصد کی جا رہی ہے، جبکہ 32 سے 41 لاکھ سالانہ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 30 سے 25 فیصد کی جا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 41 لاکھ سے 56 لاکھ سالانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 35 سے 29 فیصد کی جا رہی ہے، سالانہ 56 سے 70 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 35 سے 32 فیصد کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال تنخواہ دار طبقے پر عائد کیے گئے سر چارج ختم کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا انفلوئنسرز
سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ فنانس بل کے مطابق آئندہ مالی سال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے آمدن پر پانچ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا، ٹیکس کا اطلاق یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سے آمدن پر ہوگا۔سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے اکاؤنٹس میں آنے والی رقم پر متعلقہ بینک کٹوتی کرے گی۔
جائیداد کی خریداری پر فائلر کے لیے ٹیکس کم
جائیداد کی خریداری پر فائلر کے لیے ٹیکس 2.5 سے کم کرکے 1.25 فیصد کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جائیداد کی فروخت پر فائلر کے لیے ٹیکس 5.5 سے کم کرکے 2.75 فیصد کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 کروڑ سے 25 کروڑ تک آمدنی پر سپر ٹیسک مکمل ختم کردیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 2 سے کم کرکے 1.2 فیصد کردی گئی ہے، آئی ٹی ایکسپورٹ کی آمدنی پر ایف ٹی آر کی رعایت جون 2029 تک جاری رکھنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 میں دفاع کیلیے تاریخی رقم مختص کر دیدفاعی شعبے کیلیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔
ٹیکس چوری پر جرمانوں میں اضافہ
ٹیکس چوری اور بے قاعدگی پکڑے جانے پر جرمانے کی شرح بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ٹیکس چوری، بے قاعدگی پر جرمانوں کی شرح 7سال سے یکساں تھی۔
خاندانی منصوبہ بندی میں معاون اشیا پر عائد ٹیکس ختم کر دیا گیا
خواتین کے زیر استعمال سینٹری پیڈز پر ٹیکس ختم کردیا گیا
فضائی سفر کی بزنس کلاس پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔
غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔
کریڈٹ یاڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ٹیکس کی شرح 5سے کم کرکے 0.5فیصد کر دی گئی۔
مقامی ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم، کسٹمز ڈیوٹی 100 سے زائد اقسام کے خام مال پر ختم کی گئی ہے۔
الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں، گاڑیوں، بس پر موجودہ رعایت برقرار ہے۔ درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر سیلزٹیکس کی شرح ایک فیصد کم ہو گی۔
2ہزار سے 3ہزار سی سی تک تمام پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر ایف ای ڈی عائد کی گئی ہے جب کہ 3ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ 2کروڑ سے زائدمالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پربھی ایف ای ڈی کا اطلاق ہو گا۔
چھوٹے دکانداروں کیلیے فکسڈ ٹیکس
چھوٹے دکانداروں کیلئے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ وزیرخزانہ کے مطابق 20کروڑ روپے یا کم سالانہ فروخت والے دکاندار اسکیم کے تحت سیلز کا صرف 1 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔
فکسڈٹیکس اسکیم کے دکانداروں کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہو گا اور چھوٹے تاجروں کو پی او ایس مشین رکھنے سے استثنیٰ ہو گا۔
ٹیکس دینے والے دکانداروں کو کیوآرکوڈ والی ‘سبز رنگ کی تختی’ دی جائے گی، سبز تختی ہو تو ایف بی آر اہلکاروں کو پوچھ گچھ کیلئے دکان میں داخلےکی اجازت نہیں ہو گی، دکانداروں کے لیے سادہ اور ایک صفحے کا ٹیکس گوشوارہ اردو سمیت مقامی زبانوں میں دستیاب ہو گا۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام
بی آئی ایس پی کے بجٹ میں 17 فیصد کا تاریخی اضافہ کرنے کی تجویز ہے جس کا مجموعی بجٹ بڑھا کر 838 ارب روپے کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔
کفالت پروگرام کی کوریج بڑھاکر1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی۔ تعلیمی وظائف پروگرام کو وسعت دی جائے گی جس سے 92لاکھ بچوں کوتعلیمی وظائف سے فائدہ پہنچے گا۔
کراچی
کراچی کے واٹر سپلائی منصوبے ’کے4‘ کیلئے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صنعت و تجارت کے لیے 6.6 ارب روپے مختص کئےگئے ہیں۔ سب سے بڑا حصہ کراچی انڈسٹریل پارک کے بلاک اے پر خرچ ہو گا۔
آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، ضم اضلاع
آزاد کشمیر کے لیے 45 ارب اور گلگت بلتستان کے لیے 44 ارب مختص کیے گئے ہیں جب کہ وزیرِ اعظم خصوصی پیکج کے طور پر آزاد کشمیر کو 5 ارب ،گلگت بلتستان کو 4 ارب روپےاضافی ملیں گے۔
خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع کے لیے 56 ارب کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
ہاؤسنگ
پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبےکے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار سستے اور ماحولیاتی لچکدار رہائشی یونٹس بنیں گے۔
موٹر وے اور اہم شاہراہیں، ٹرانسپورٹ، گوادر
بلوچستان کی اہم شاہراہ کراچی تا چمن ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنےکیلئے100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سکھرحیدرآباد موٹر وے ایم 6پر شمال جنوب نیٹ ورک کی تکمیل کیلئے30 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہو گی۔
وزیرخزانہ کے مطابق اےڈی بی فنانسنگ سے ایم ایل ون کراچی روہڑی سیکشن کا کام ہو گا جس کیلئے 25ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تھر کول کنیکٹیویٹی ریلوے پروجیکٹ کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ گوادر بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے، چاروں صوبوں کے ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلئے93 ارب روپے مختص ہیں۔
اعلیٰ تعلیم، صحت، کینسر علاج
وزیرخزانہ کے مطابق عوامی صحت کے دیکھ بھال کے منصوبوں کیلئے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ کینسر علاج کی سہولتوں میں وسیع کی جائیں گی۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کئےگئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کیلئےمختص رقم میں گزشتہ سال کے 34.9 ارب کے مقابلے نمایاں اضافہ ہے۔ اسکول اور کالج کی بنیادی تعلیم کیلئے مجموعی طور پر 26.3 ارب روپے مختص کئےگئے ہیں۔
بجٹ
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771ارب روپے ہوگا،سود کی ادائیگی پر 8ہزار 54ارب روپے مختص کرنے، پینشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پینشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔
دفاع کے لیے 3ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050ارب ہوگا جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔


