The news is by your side.

Advertisement

این اے 122 کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج، ایازصادق فاتح

لاہور: حلقے این اے ایک سوبائیس، این اے ایک چوالیس اور پی پی ایک سو سینتالیس میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم ہوچکا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

اے آروائی نیوز نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے سب سے پہلے پہلا نتیجہ بریک کیا ہے گورنمنٹ زچہ بچہ بسطامی روڈ کے پولنگ اسٹیشن سے جہاں غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق سردار ایاز صادق آگے ہیں۔

پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی تھی اورشام پانچ بجے تک بلا تعطل جاری رہی ہے۔

 این اے 144 اوکاڑہ سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار چوہدری ریاض الحق جج کامیاب قرار پائے ہیں۔


– ضمنی انتخابات کےنتائج –


لاہوراین اے 122

سردار ایاز صادق ( پاکستان مسلم لیگ ن):75,287 ووٹ لےکر غیر حتمی غیر سرکاری نتئاج کے مطابق کامیاب قرار پائے ہیں۔

علیم خان (پاکستان تحریک انصاف):71,256 ووٹ لئے

اوکاڑہ این اے 144

ریاض الحق ( آزاد امیدوار) : 83240 ووٹ لے کر غیر حتمی غیر سرکاری نتئاج کے مطابق کامیاب قرار پائے ہیں۔

علی عارف چوہدری ( پاکستان مسلم لیگ ن) :41052 ووٹ لئے

اشرف سوہنا ( پاکستان تحریک انصاف): 7140 ووٹ لئے

لاہور پی پی 147

محسن لطیف ( پاکستان مسلم لیگ ن ): 28641 ووٹ لئے

شعیب صدیقی ( تحریک انصاف): 31993 ووٹ لےکر غیر حتمی غیر سرکاری نتئاج کے مطابق کامیاب قرار پائے ہیں۔

حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کیا جائے گا۔


 مریم نواز کے فاتحانہ ٹویٹس

وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے این اے 122 میں فتح پر کئی فاتحانہ ٹویٹس کئے جن میں انہوں نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ’’آوٹ ہونے والے کھلاڑی کو دوبارہ بیٹنگ دی لیکن وہ پھر بھی نہیں جیت پائے‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاہور کے عوام نے تباہی اور الزام کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔


چوہدری سرور کا اعترافِ شکست

تحریک انصاف کے رہنماء چوہدری سرور نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ان کی نظر میں ایازصادق جیت چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ایاز صادق کو مبارک باد بھی دیں گے۔


این اے 122 سے مسلم لیگ ن کے امید وار ایاز صادق نے ٹویٹ کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

I just want to say thanks everyone its just about your prayers keep remember me in yours prayers thanks.. — Sardar Ayaz Sadiq (@SpeakerNA122) October 11, 2015


 پی ٹی آئی کے رہنما نعیم الحق کی گفتگو

پی ٹی آئی کے رہنما نعیم الحق نے آروائی نیوز پرخصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی نہیں ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک چینل پی ٹی آئی کو آگے دکھا رہا ہے لیکن اے آروائی نیوز پرنشرکئے جانے والے نتائج درست ہیں اورتحریک انصاف کے امیدوار فی الحال پیچھے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اشرف سوہنا نے محض چند ماہ پہلے ہی تحریک انصاف میں شمولیت اختیارکی ہے جس کے سبب انہیں کم ووٹ ملے ہیں۔

لاہور این اے 122 این اے ایک سوبائیس کے ضمنی انتخابات میں284 پولینگ اسٹیشن میں سے 80 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیئے گئے ہیں بلکہ کسی بھی نہ خوشگوار واقع سے نمٹنے کے لئے پولنگ اسٹیشنزکے اندراور باہرفوج تعینات کی گئی ہے ۔   الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے حلقے میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ آئی جی پنجاب کے آفس میں مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کیا ہے۔   قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اسلحے کی نمائش پر کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی، پاک فوج کی جانب سے فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے، ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

اوکاڑہ این اے 144 :

این اے ایک چوالیس اوکاڑہ کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے علی عارف چوہدری ،پی ٹی آئی کے اشرف سوہنا،پیپلزپارٹی کے چوہدری سجاد الحسن اور آزاد امیدوار ریاض الحق کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔   فوج کی نگرانی میں بیلٹ باکس، بیلٹ پیپرز اور دیگر سامان اوکاڑہ پہنچاکر پولنگ اسٹاف میں تقسیم کیاگیا، ریٹرنگ افسر کے مطابق حلقے میں قائم دو سو دس پولنگ اسٹیشنز میں تین لاکھ سولہ ہزارتین سو ستر ووٹرز رجسٹر ہیں۔   مردوں کےاٹہترخواتین کے ستترجبکہ مشترکہ طور پرپولنگ اسٹیشنز کی تعداد پچپن ہے،حلقہ میں پچیس پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے، پولیس کے بتیس سو اہلکار ،رینجرز اور فوج کی معاونت سےسیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔   پی پی 147:   پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی ایک سو سینتالیس میں بھی ضمنی انتخاب آج ہورہا ہے۔پی پی ایک سو سینتالیس کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے امیدوارمحسن لطیف، تحریک انصاف کے شعیب صدیقی اور پیپلز پارٹی کےافتخار شاہد مدمقابل ہیں ۔   پی پی ایک سو سینتالیس کے ایک لاکھ چالیس ہزار سات سو سڑسٹھ ووٹرزاپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے،الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کو ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہےجس کےمطابق ووٹرزکو مفت ٹرانسپورٹ اور پولنگ بوتھ سے باہر لےجانا ناقابل سزاجرم ہوگا۔


 

براہ راست اپڈیٹ

 


پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار ایاز صادق75,287 ووٹ لےکر غیر حتمی غیر سرکاری نتئاج کے مطابق کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان 71,256 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 147 سے تحریک انصاف کے شعیب صدیقی 31993 ووٹ لےکر غیر حتمی غیر سرکاری نتئاج کے مطابق کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے محسن لطیف 28641 ووٹ لے کردوسرے نمبر پر رپے۔

این اے 144 اوکاڑہ سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار چوہدری ریاضالحق جج 83240 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار علی عارف 41052 ووٹ لے کردوسرے نمبر پر اور پی ٹی آئی کے اشرف سوہنا 7140 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

انتخابات کا وقت پانچ بجے ختم ہوگیا اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

آئی جی پنجاب نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو ملنے والی دھمکیوں کی تحقیقات کررہے ہیں۔

این اے122کا مقابلہ، گوجرانوالا میں لیگی اور پی ٹی آئی کارکن بے قرار ہیں ایاز صادق اور علیم خان نام کے مرغوں کو امیدوار بنا کر لڑادیا۔

لاہور سلمانیہ اسکول پولنگ اسٹیشن کے قریب تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کے کارکنان ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں اور دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی جارہی ہے۔

دوسری جانب عمران خان کی اہلیہ نے بھی عوام سے ووٹ کے لئے گھروں سے نکلنے کی اپیل کردی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہورکا کہنا ہےکہ انتخابات پرامن ماحول میں جاری ہے،ساڑھے پانچ ہزار اہلکار تعینات کیے ہیں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ ابتک صورتحال بہتر ہے، اگلے چار گھنٹے بھی اہم ہیں۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے پورے یقین سے کہہ دیا کہ ضمنی الیکشن میں ہم جیتیں گے، ان کا کہنا تھا کہ  عوام آگے بڑھ کر ووٹ کے لیے گھروں سے نکلیں۔     لاہور میں حسین ملاپ بھی نظر آیا دولہا مسلم لیگ ن کا ووٹر، دلہن پی ٹی آئی کی حامی، دولہا ندیم نے پہلے ووٹ ڈالا پھر پیدل بارات لے کر شادی ہال پہنچا۔ پی ٹی آئی کے رہنما حمزہ علی عباسی اور بلال لاشاری بھی کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھانے میدان میں آگئے۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں پاکستام مسلم لیگ ن کی ایک اور رہنما مائزہ حمید انکشاف کیا کہ ان کو دھمکی آمیز ایس ایم ایس موصول ہوا ہے انہوں نے بتایا کہ  دھمکی آمیز ایس ایم ایس  بیرون ملک کے نمبر سے موصول ہوا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مائزہ حمید کا کہنا تھا کہ ہم ایسی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہم میدان میں ڈٹے رہیں گے۔ پی ٹی آئی کے رہنما چوہدری سرور اور جہانگیر ترین نے این اے ایک سو بائیس کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اس موقع پر پولنگ اسٹیشنز میں سی سی ٹی وی کیمرے غیرفعال ہونے پر پی ٹی آئی رہنما نے تحفظات کا اظہار کیا۔   عظمی بخاری کے بعد ن لیگ کی ماروی میمن کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول ہورہے ہیں،ماروی میمن نے دھمکی آمیز پیغام ٹویٹر پر پوسٹ کر دیا ۔ ماروی کا کہنا ہے کہ گیارہ اکتوبر کو گڑ بڑ کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے،ماروی میمن نے دھمکی آمیز پیغام بھیجنے والے کا نمبر بھی پوسٹ کر دیا۔ لاہور میں بستی سیدن شاہ کے پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان گتھم گھتا ہوگئے۔ پولنگ اسٹیشن رحمان پورہ پرائمری اسکول میں ن لیگ کے کارکن عبدالمقتدر نےاسلحے سمیت زبردستی داخل ہونےکی کوشش کی، ن لیگ کے کارکن کو گرفتار کرمقدمہ درج کرلیا گیا۔ این اے 122 : شادمان پولنگ اسٹیشن پر مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکن آمنے سامنے آگئے۔   workers faceoff ان کا کہنا تھا لوگ تبدیلی کو ووٹ دے رہے ہیں، فوج کی نگرانی میں اسی طرح پولنگ جاری رہی تو نتیجے کو قبول کرینگے ۔ aleem ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں این اے ایک سو بائیس سے پی ٹی آئی کے امیدوار علیم خان نے کہا ہے کہ عمران خان کا پیغام گھر گھر پہنچ چکا ہے۔ این اے 122 میں پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار علیم خان نے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔پی ٹی آئی کے امیدوار علیم خان نے ووٹ ڈالنے سے قبل لاہور میں حضرت داتا علی ہجویری کے دربار پر حاضری بھی دی۔ aleem khan اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما عظمی زاہد بخاری کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے متوالے ایس ایم ایس پر گولیاں مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن آج بھی میدان میں ہوں ۔ گڑھی شاہو میں اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ لودھراں میں ضمنی انتخاب ہوتے تو ن لیگ کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑتا،انہوں نے کہا کہ شیر کو پھر میدان میں لے کر آوں گا ۔ CRAkwq6XAAADEfR پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور نے گڑھی شاہو کے پولنگ اسٹیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک کمرے میں 4 بوتھ لگائے ہیں یہ الیکشن کمیشن کی ناکامی ہے، حکمرانوں سے خیر کی توقع نہیں ہے ہمیں اپنے فوجی بھائیوں پر بھروسہ ہے۔ sarwar   پی ٹی آئی رہنما چوہدری سرور نے کہا کہ آج انصاف کی فتح کا دن ہے عوام گھروں سے باہر نکلے گھر میں بیٹھ کر مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔  

پی ٹی کے رہنما اعجاز چوہدری نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔

ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا ہے کہ عید جیسا سماع ہے، فتح مسلم لیگ ن کی ہوگی جو بھی نتیجہ آیا قبول کریں گے۔

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو بھی نتیجہ آیا قبول کریں گے،ایاز صادق مشاورت سے ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔

ayaz

این اے ایک سو بائیس پر ن لیگ پی ٹی آئی میں گھمسان کی جنگ کا فیصلہ آج ہوگا جبکہ ن لیگی اُمیدوار سردار ایازصادق نے اپنا ووٹ کاسٹ کردیا۔

بولنگ سے قبل پریذائڈنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ حلقہ این اے ایک سو بائیس کے ضمنی انتخاب میں دھاندلی ہوسکتی ہے، دھاندلی کے امکان کو رد نہیں کرسکتے۔

ضمنی انتخاب کے حوالے سے پریذائڈنگ افسرکا کہناہےکہ حلقے میں دھاندلی ہوسکتی ہے، پرئیذائڈنگ افسر نے شفاف انتخابات کیلئے بائیومیٹرک سسٹم کے تحت انتخابات کے انعقاد پرزور دیا تھا۔

پریذائڈنگ افسر کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخاب کے موقع پردھاندلی کےامکانات موجودہیں لیکن ایسے کسی بھی امکان کا انحصار پولنگ والے علاقے پر ہے۔


  حلقہ این اے 122: پسِ منظر


لیگی امیدوارایاز صادق این اے ایک سوبائیس سے تین بارمسلسل کامیابی حاصل کرچکے ہیں، دوہزاردو اوردوہزار تیرہ میں انہوں نے عمران خان کواسی حلقے میں شکست دی،جبکہ پی ٹی آئی امیدوار علیم خان مشرف دورمیں پرویز الٰہی کی کابینہ میں صوبائی وزیررہے۔

سردار ایاز صادق انیس سو چوون کو لاہورمیں پیداہوائے،انہوں نے ہیلے کالج آف کامرس سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ مسلم لیگی ایاز صادق نے سیاسی کیریئر کا آغاز انیس سو چھیانوے میں تحریک انصاف سے کیا، تاہم دو سال کی مختصر رفاقت کےبعد وہ نواز لیگ میں شامل ہوئے، دو ہزار دو کے انتخابات میں انہوں نے عمران خان کو شکست دی۔

دو ہزار آٹھ میں انہوں نے پی پی کے امیدوار کو بھی شکست دی، دو ہزار تیرہ میں ایک بار پھر انہوں نے عمران خان کو شکست دی اور اسپیکر قومی اسمبلی بنے، لیکن کپتان کی جانب سے دھاندلی کی شکایت پر الیکشن ٹربونل نے الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا۔

علیم خان اس حلقے میں پی ٹی آئی کے مضبوط امیدوار ہیں، عبد العلیم خان کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ لاہور کی پارک ویو ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ شراکت دار اور ویژن گروپ کے چئیرمین بھی ہیں، علیم خان نے سیاسی کئیریر کا آغاز ق لیگ سے کیا،  دو ہزاردو میں ایاز صادق کےقومی اسمبلی میں چلے جانے کے باعث صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑنے کےبعدوہ کامیاب ہوئے،اور پرویز الٰہی کی کابینہ میں آئی ٹی کے وزیر بنے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں