The news is by your side.

Advertisement

شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں 3 دسمبر تک توسیع

اسلام آباد: ایل این جی اسکینڈل کیس میں احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے جوڈیشل ریمانڈ میں 3 دسمبر تک توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں ایل این جی کیس کی سماعت ہوئی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور عمران الحق شیخ کو جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں سماعت کے دوران شاہد خاقان عباسی نے سوال کیا کہ ان سے پوچھ لیں کہ کیس کیا ہے؟ جس پر وکیل نیب نے جواب دیا کہ ریفرنس منظور ہو گیا ہے جلد دائر کر دیا جائے گا۔ وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مؤکل کو کس قانون کے تحت تحویل میں رکھا گیا ہے۔

وکیل نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایل این جی ریفرنس تیار ہے، ریجنل بیورو سے منظور بھی ہو چکا ہے، ہیڈکوارٹرز سے منظوری کے بعد 14 دن میں دائر کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان پر کیا الزامات ہیں یہ ریفرنس میں بتا دیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ صرف عوام کو سنانے کے لیے باتیں کرتے ہیں، یہاں آکر کہنے لگتے ہیں ہمیں بلاوجہ قید میں رکھا گیا ہے، اگر انہیں قید سے مسئلہ ہے تو ضمانت کا فورم موجود ہے، ضمانت کے لیے کسی فورم سے ابھی تک رجوع نہیں کیا گیا۔

نیب نے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل اور عمران الحق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن توسیع کی استدعا کی۔ احتساب عدالت نے تینوں ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 3 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران جج محمد بشیر نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا تھا صحت کی سہولتیں کیسی ہیں جیل میں؟ جس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب میں کہا تھا کہ صحت کی سہولتوں کی مجھے ضروت ہی نہیں، 100 دن ہوگئے اب تک کیس نہیں بن پایا ، ڈیڑھ سال سے تفتیش کر رہے ہیں اب تک کیس نہیں بن پایا۔

شاہد خاقان کی ایل این جی کیس کا ٹرائل ٹی وی پر دکھانے کی درخواست

شاہد خاقان نے ایل این جی کیس کا ٹرائل ٹی وی پر دکھانے کی درخواست بھی دائر کی تھی، جس میں کہا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں میں احتساب کر رہا ہوں، چیئرمین نیب کہتے ہیں احتساب میں کر رہا ہوں، ٹرائل براہ راست دکھایا جائے تا کہ عوام کو پتہ چلے کیا ہو رہا ہے۔

واضح رہے جولائی میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا تھا۔ نیب نے شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی کیس میں طلب کر رکھا تھا لیکن انہوں نے نیب میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جب شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے تب انہوں نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ معاہدے کے تحت پاکستان کو ہر سال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدنی تھی جو پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔

سابق وزیر اعظم پر الزام ہے کہ انہوں نے ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا 220 ارب روپے کا ٹھیکہ دیا جس میں وہ خود حصہ دار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں