The news is by your side.

Advertisement

‘کےالیکٹرک کو نوٹس ملنے کے بعد لوڈشیڈنگ مزید بڑھ گئی’

کراچی: بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے وفاقی وزیر توانائی اور چیئرمین نیپرا کو مراسلے جاری کردیے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس ملنے کے بعد بجائے یہ کہ لوڈ شیڈنگ میں کمی آتی، اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے۔ کے الیکٹرک اب بھی 8 سے 12 گھنٹے روزانہ لوڈ شیڈنگ کررہی ہے ۔کے الیکٹرک کو لوڈ شیڈنگ میں فوری کمی کی ہدایات کے ساتھ ساتھ بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا وسیع البنیاد اجلاس بلا یا جائے۔

وزیر توانائی کی جانب سے جاری مراسلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ حیسکو سیپکو کے تحت آنے والے سندھ کے شہروں کو 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔سندھ کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اقدامات کیے جائیں۔

شدید گرمی اور حبس کے باوجود سندھ کے شہروں بالخصوص کراچی میں طویل وقفوں کی لوڈشیڈنگ پر وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کو لکھے گئے اپنے علیحدہ علیحدہ مراسلوں میں واضح کیا ہے کہ نیپرا کی عوامی سماعت کے بعد کے الیکٹرک کو نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعہ 28 کے تحت شوکاز نوٹس دیئے جانے کے بعد بجائے یہ کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ میں کمی آتی، اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے اور کراچی میں اب بھی نہ صرف یہ کہ 8 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے بلکہ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں رات میں بھی طویل وقفوں کی ازیت ناک لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو بے حال کردیا ہے جس سے شہریوں کے احتجاج کا اندیشہ اور امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے۔

اپنے مراسلے میں امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو فوری طور پر لوڈشیڈنگ میں کمی کے احکامات دینے کے ساتھ ساتھ نیپرا حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ کراچی آکر لوڈ شیڈنگ کے مسائل کا از خود جائزہ لیں انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے بجلی کے شعبے سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول کے الیکٹرک ، نیپرا ، بجلی کے شعبے کے ماہرین ، پاور ڈویژن اور سندھ حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر اجلاس بلا کر تجاویز و آراء کی روشنی میں مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ کراچی کے شہری لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات پاسکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں