سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کیخلاف کامیاب آپریشن کے بعد اس مقام پر اسکول کی عمارت تعمیر کی جارہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حالات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں۔
ڈاکو مافیا کیخلاف متعدد کارروائیوں اور اقدامات کے باوجود وارداتوں کو بالکل ختم تو نہیں کیا جاسکا تاہم اس میں کمی واقع ضرور ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کی ٹیم نے کچے کے علاقے میں ایک اسکول کا دورہ کیا اور بچوں سے گفتگو کرکے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔
وہاں کے مکین اور ان کے بچوں کو اب اس ماحول کی عادت سی ہوگئی ہے وہاں کے مقامی بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کی لگن اور بچوں کی قابلیت دیکھ کر ان کے اچھے مستقبل کی امید پیدا ہوئی ہے۔
کچے کے ریڈ زون میں درسگاہوں کی تعمیر، ڈاکوؤں کے مورچوں کی جگہ اسکولوں کے قیام جیسی خوشگوار تبدیلیاں وہاں کے بچوں کیلیے تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔
یہ مقام تیغانی اور وائی قبیلے کے علاقوں کے درمیان واقع ہے، ڈاکوؤں کی سرگرمیوں کے دنوں میں یہاں انتہائی خوف کا عالم تھا، دونوں اطراف سے لڑائی جھگڑا فائرنگ سے نہ صرف امن و امان کی صورتحال ابتر تھی بلکہ تعلیمی اور معاشی نظام بھی تباہ ہوچکا تھا۔
تیغانی اور وائی قبیلے کے درمیان مسلح تصادم میں اب تک 60 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم اس مسئلے کے کسی حد تک حل ہوجانے کے بعد محکمہ تعلیم نے دونوں قبائل کے معززین سے بات کرکے یہاں تعلیمی سلسلہ شروع کیا اور طے پایا کہ دونوں قبائل کے بچے یہاں تعلیم حاصل کریں گے۔
مذکورہ اسکول میں 300 بچے زیر تعلیم ہیں اور ٹیم سرعام کو پڑھائی میں ان بچوں کی رغبت دیکھ کر بقول شاعر یہ اندازہ ہوا کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


