The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن کے باعث کراچی میں پانی کی قلت کی حقیقت سے پردہ ہٹ گیا

لاک ڈاؤن کے دوران پانی سے محروم علاقوں پاک کالونی، ریکسر، پرانا گولیمار، بلدیہ اور لیاری میں پانی آنا شروع

کراچی: کرونا وائرس کی وبا کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران شہر میں پانی کی قلت کی حقیقت سے بھی پردہ ہٹ گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی میں لاک ڈاؤن نے شہریوں کو درپیش ایک اہم ترین مسئلے کی حقیقت سے پردہ ہٹا دیا ہے، شہر کے ایسے متعدد علاقے ہیں جو پینے کے پانی سے محروم ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ یہ اس لیے ہے کیوں کہ پانی کی قلت ہے۔

تاہم، وبا کے باعث جب شہر میں لاک ڈاؤن لگ گیا تو صنعتی ایریا بھی بند ہو گئے، یہ ایریا بند ہونے سے برسوں سے محروم علاقوں میں پانی کی فراہمی اچانک شروع ہو گئی، جس سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ کراچی کے شہریوں کا پانی کہاں جا رہا تھا۔

پانی کی غیر قانونی فروخت کے خلاف کراچی واٹربورڈ کا آپریشن

ذرایع کا کہنا ہے کہ سائٹ کے صنتعی ایریا کو منظم مافیا مختلف علاقوں سے واٹر بورڈ کی لائنوں سے پانی چوری کر کے فراہم کرتا ہے، صنعتوں کو پانی کی فراہمی بند ہو گئی تو پانی سے محروم علاقوں پاک کالونی، ریکسر، پرانا گولیمار، بلدیہ اور لیاری میں پانی آنا شروع ہو گیا ہے۔

ذرایع کے مطابق پانی چور مافیا تین ہٹی، لسبیلہ، لیاقت آباد، پاک کالونی اور ناظم آباد کے علاقوں میں واٹر بورڈ کی لائنوں سے پانی چوری کرتے ہیں اور صنعتی یونٹس کو فراہم کرتے ہیں، معلوم ہوا ہے کہ پانی چور مافیا ماہانہ 30 کروڑ سے زائد کا پانی چوری کرتا ہے، اور اس مافیا نے مذکورہ علاقوں میں واٹر بورڈ کے متوازی اپنا نیٹ ورک بنایا ہوا ہے، ان علاقوں میں مافیا کے من پسند افسران کو تعینات کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں