لندن قیادت کا فیصلہ، رکن قومی اسمبلی کا مستعفیٰ ہونے کا اعلان -
The news is by your side.

Advertisement

لندن قیادت کا فیصلہ، رکن قومی اسمبلی کا مستعفیٰ ہونے کا اعلان

کراچی: لندن قیادت کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم کے اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹرز  استعفیٰ دینے یا نہ دینے کے لیے تذبذب کا شکار ہوگئے تاہم قومی اسمبلی حلقہ این اے 247 سے منتخب ہونے والے ایم کیو ایم کے امیدوار سفیان یوسف نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لندن رابطہ کمیٹی کے بیان اور ایم کیو ایم کو تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد اراکین اسمبلی و سینیٹرز تذبذب کا شکار نظر آرہے ہیں کیونکہ کنونیئر ایم کیو ایم نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھاکہ ’’اسمبلی مینڈیٹ الطاف حسین کی وجہ سے ملا ہے، قائد ایم کیو ایم کے خلاف اسمبلی میں قرار داد کے بعد اب اراکین کو اُس کا حصہ نہیں رہنا چاہیے‘‘۔

پڑھیں: لندن قیادت کا متحدہ ارکان اسمبلی سے استعفی کا مطالبہ

لندن قیادت کی جانب سے فیصلے کے کچھ دیر بعد ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سفیان یوسف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایم کیو ایم کا مینڈیٹ الطاف حسین کا ہے اور میں جلد ہی اسمبلی سے استعفیٰ دے دوں گا‘‘۔

Sufiyan-Yousuf-1

ذرائع کے مطابق لندن رابطہ کمیٹی کے بیان کے بعد کچھ اراکین اسمبلی نے اپنے موبائل فون بند کردئیے ہیں تاہم بعض کا کہنا ہے کہ ’’مینڈیٹ عوام کی امانت ہے اور خدمت کے لیے حاصل کیا گیا ہے، نشست سے استعفیٰ دینا عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہوگا۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اراکین اسمبلی اور سینیٹرز استعفوں سے متعلق ایک دو روز میں فیصلہ کرلیں گے جس کے بعد صورتحال واضح ہوجائے گی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے اللہ کا نام لے کر قوم کو بکھرنے سے بچانے کے لیے 23 اگست کو بڑا قدم اٹھایا۔ لندن کے بیان کے بعد ہمارے درمیان انتشار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا اور تمام اراکین اسمبلی اپنی ذمہ داریاں اسی طریقے سے انجام دیتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: تمام شعبہ جات ہماری بات مانیں گے، فاروق ستار

یہ بھی پڑھیں: قائد متحدہ کا امریکا میں خطاب معافی سے پہلے کا ہے، ندیم نصرت

بعد ازاں ندیم نصرت نے اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آر میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان پر کچھ طاقتوں کا دباؤ ہے تاہم آج اسمبلی میں جو ہوا ہمیں اُس کی امید نہیں تھی‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں