The news is by your side.

Advertisement

برطانوی تہذیب کا حال

آنسہ عنبرہ سلام کی پیشِ نظر تحریر نیاز فتح پوری کے معروف رسالے "نگار” میں‌ 1928 میں‌ شایع ہوئی تھی۔ اس کا عنوان تھا، "بلادِ مغرب، ایک مشرقی خاتون کی نگاہ سے۔”

یہاں‌ ہم نے اس تحریر سے جو پارہ نقل کیا ہے، اس سے یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ برطانوی راج میں جب ہر ہندوستانی آزادی کا نعرہ بلند کر رہا تھا، ایک طبقہ بالخصوص مشرقی خواتین نے انگلستان کی تہذیب اور معاشرت کو کس طرح دیکھا اور اس کی خوبیوں اور اپنے مشاہدات کو کیسے بیان کیا۔ جب کہ اس دور میں‌ انگریزوں کی مخالفت عروج پر تھی۔ ہندو، مسلمان اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ہندوستانی برطانوی تہذیب و ثقافت سے سخت نفرت کرتے تھے اور ان کی تعریف کرنے والوں کو بھی مطعون کیا جاتا تھا۔ آنسہ لکھتی ہیں:

"انگلستان جانے کے بعد سب سے پہلے جو لفظ میں نے سنا وہ [decent] تھا۔ اس کا استعمال یہاں کے لوگ بار بار کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کا جمالی پہلو ہی ان کے سامنے رہتا ہے۔ اور مشکل سے کبھی لفظ [nasty] ان کے منہ سے سننے میں آئے گا جو اوّل الذّکر لفظ کا بالکل ضد ہے۔”

"اس میں شک نہیں کہ اس قوم میں نقائص بھی ہیں اور برائیاں بھی ہیں لیکن کریم النّفسی کی مثالیں ان میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ وطن پرستی، مفادِ قومی، تعاونِ باہمی، یہ وہ خصوصیات ہیں جو ایک شخص کی کریم النّفسی پر دلالت کرتی ہیں اور یہاں کی آبادی کا غالب حصہ (مرد و عورت دونوں کا) ان صفات سے متصف نظر آتا ہے۔”

"یہاں کی تہذیب کا یہ حال ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ دکان میں مال بیچنے والا، اسٹیشن پر ٹکٹ دینے والا پہلے شکریہ ادا کرے گا اور پھر مال یا ٹکٹ دے گا۔ بلکہ اس سے زیادہ یہ کہ نوکر کا بھی شکریہ ادا کیا جاتا ہے اور ایک افسر اپنے ماتحت کی خدمت کا بھی اعتراف شکریہ سے کرتا ہے۔”

"دوسروں کی خدمت و امداد کے لیے یہاں کے لوگ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ میں ایک مرتبہ رشمونڈ پارک میں ٹہل رہی تھی اور میری چھوٹی بہن جو بیمار تھی میرے بھائی کی گود میں تھی جس کو وہ بہت دیر سے لیے ہوئے تھا۔”

"ہمارے ساتھ ہی ساتھ ایک اور مرد بزرگ بھی جس کی عمر 60 سال کی ہوگی مع اپنی بیوی ٹہل رہا تھا، صورت و لباس سے یہ لوگ بہت معزّز معلوم ہوتے تھے۔ میرے بھائی نے تھک کر چاہا کہ بچّی کو گود سے اتار دے لیکن وہ اسے زمین تک نہ لایا ہوگا کہ اسی مردِ ضعیف نے اپنی چھڑی اپنی بیوی کو دی اور بڑھ کر آگے آیا اور بولا کہ "اب اس بچّی کو گود میں لے کر چلنے کی باری میری ہے۔”

"جانوروں کے ساتھ بھی یہاں لطف و رحم کا سلوک کیا جاتا ہے۔ میں دو سال انگلستان میں رہی لیکن اس دوران میں نے کسی کے منہ سے ایک کلمہ بھی ایسا نہیں سنا جو دل کو برا لگتا۔ میں روزانہ صبح کو ریل میں بیٹھ کر ایک گھنٹہ کے لیے سفر کو نکل جاتی تاکہ میں یہاں کے لوگوں کا زیادہ قریب سے مطالعہ کروں۔ ریل میں ہجوم کا یہ عالم ہوتا کہ تل رکھنے کو جگہ نہ ملتی لیکن میں نے بھی نہیں دیکھا کہ یہاں کے مرد عورت ریل میں بھی اپنا وقت ضائع کریں۔ جس کو دیکھیے یا تو وہ کسی اخبار کا مطالعہ کرتا ہوا ملے گا یا کوئی کتاب پڑھ رہا ہو گا۔ یہی حال عورتوں کا ہے۔”

"ایک دود ھ بیچنے والا نکلتا ہے اور ہر دروازہ پر دودھ کی بوتلیں رکھتا ہوا چلا جاتا ہے، نہ وہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور نہ چوری کا اندیشہ اس کو ہوتا ہے۔ راستہ میں میز کے اوپر اخبار رکھے ہوئے ہیں، لوگ گزرتے ہیں، قیمت وہیں رکھ دیتے ہیں اور اخبار لے کر چلے جاتے ہیں۔”

"پھر یہ دیانت و امانت پولیس یا قانون کے خوف سے نہیں بلکہ حقیقتاً ان کے ذہن ہی میں یہ بات نہیں آتی کہ کوئی انسان ایسی نحیف و ذلیل حرکت بھی کرسکتا ہے اور یہ نتیجہ ہے صرف ان کی اعلیٰ تربیتِ ذہنی کا۔

برنارڈ شا کہتا ہے کہ "مدنیت نام ہی اس کا ہے کہ تم میرا اور میری خصوصیات کا احترام کرو، میں تمہارا اور تمہاری خصوصیات کا احترام کروں گا۔”

"حقیقت یہ ہے کہ اہلِ انگلستان نے اس کو پوری طرح سمجھا اور نہایت تکمیل کے ساتھ اپنے ملک کے اندر اس پر عمل کر رہے ہیں۔”

Comments

یہ بھی پڑھیں