site
stats
پاکستان

لندن کے فلیٹس شریف خاندان کیلئے درد سر بن گئے

اسلام آباد : پاناما کیس میں لندن کے پوش علاقے میں موجود فلیٹس کی ملکیت مرکزی نکتہ ہے۔ شریف خاندان کے مطابق یہ فلیٹس دوہزار چھ میں خریدے گئے جبکہ پاناماکیس اوربی بی سی کی رپورٹس کے مطابق یہ فلیٹس نوے کی دہائی سے شریف خاندان کے پاس ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے فلیٹس لندن کے پوش علاقے پارک لین میں مہنگی ترین جائیداد کا مرکزہیں۔ یہ فلیٹس نوے کی دہائی سے ہی شریف خاندان کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے نوے کی دہائی میں سب سے پہلے ان فلیٹس پر ڈاکو مینٹری فلم دکھائی۔ شروع دن سے ہی شریف خاندان ان فلیٹس سے انکار کرتا رہا اوراس کے بعد دوہزار سات میں شریف برادران وطن واپسی کے بعد اس حوالے سے متضاد بیانات بھی دیتے رہے۔

کبھی مریم نواز نے کہا کہ میری کوئی جائیداد نہیں، پھر حسن نواز نے اس جائیداد پر اس سے بالکل مختلف بیان دیا اور حسین نواز نے بھی کچھ ایسا ہی کہا، وزیراعظم نے اسمبلی میں فلیٹس کی ملکیت کی مکمل تفصیلات بھی بتائیں۔

بعد ازاں وزیراعظم کا بیان ان کے بچوں کے بیانات سے مختلف نکلا۔ ذارئع کے مطابق لندن کے یہ فلیٹس شریف خاندان کے استعمال میں ایک عرصے سے ہیں۔ صدیق الفاروق نے تو یہ تک کہا کہ وہ نوے کی دہائی میں وہاں رہتے رہے ہیں۔

پاناما پیپرز سامنے آئے تو یہ ثابت ہوگیا کہ یہ فلیٹس نہ صرف شریف فیملی کی ملکیت ہیں بلکہ اُس وقت بھی ملکیت ہی تھے جب کہ شریف خاندان ان سے انکار کررہا تھا۔

لندن فلیٹس پر اصل سوال اس کی خریداری نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اس خریداری کا پیسہ بیرون ملک کیسے گیا ؟ کیا یہ پیسہ قانونی طور پر گیا تھا یا منی لانڈرنگ کے ذریعے غیر قانونی طور پر پیسہ باہر منتقل ہوا۔ شریف خاندان کے لیے سیاسی درد سر کیا گل کھلائے گا اس کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top